بلاگ

‘میرا جسم میری مرضی’ پر اتنی بحث کیوں؟

رضیہ محسود

عورت مارچ کے حوالے سے تیاریاں زورو شور سے جاری ہے، کوئی سیمینارز کی تیاریاں کررہا ہے تو کوئی کسی تقریب کے انعقاد میں مصروف ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پربھی ایک بحث جاری ہے۔ اس ٹاپک کے حوالے سے کسی کی رائے لی جائے تو بعض مرد حضرات اس آزادی مارچ کی مخالفت کرتے نظر آتےہیں اور اگر عورتوں سے پوچھا جائے تو جو پڑہی لکھی نہیں ہیں ان کو تو اس کی سمجھ ہی نہیں آتی جب تک ان کو اس مارچ اور آزادی کے بارے میں سمجھا نہ دیا جائے اور جب سمجھا دیا جائے تو وہ اس آزادی کے حق میں بات کرتی نظر آئے گی نہ صرف حق میں بلکہ وہ آپ کو یہ کہے گی کہ اس طرح کے اقدامات ضرور ہونے چاہئیں اور جو پڑھی لکھی ہیں ان میں اکثریت میں ملا جلا ردعمل سامنے آتا ہے کچھ اس کو میرا جسم میری مرضی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر اس طرح کا مارچ ہے پھر یہ صحیح نہیں جبکہ بعض اس کے حق میں ہے اور مرد حضرات تو اس ٹاپک پر بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور مرد حضرات یہ کہتے رہتے ہیں کہ عورت کو اسلام نے جو مقام دیا ہے وہ اور کوئی مذہب نہیں دے سکتا اور ہم اس آزادی مارچ کے خلاف ہے۔

کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ اگر عورت آزادی چاہتی ہیں تو صلاح الدین بھی تو انہیں آزادی دے رہا تھا پھر کیوں ان پر کیس چل رہا ہے کوئی یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ آزادی مانگنے والی یورپ جائے وہاں پر ان کو یہ آزادی میسر اجائے گی۔ میں نے یہ ٹاپک کیو چنا اور اس پر لوگوں کی رائے کیوں لی؟؟؟؟؟؟ جب میں نے اس ٹاپک پر رائے لینی چاہی تو رائے دینے والے میرے بھائیوں نے الٹا مجھ پر الزام لگانا چاہا کہ آپ ایسی باتیں پروموٹ کرتی ہوں اور اسکا مطلب کہ آپ بھی میرا جسم میری مرضی کے حق میں ہوں ،کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ آپ جیسی پڑھی لکھی عورت سے تو یہ توقع ہی نہیں کہ آپ جیسی معزز قبائلی خاندان کی عورت بھی اس آزادی کی طرف دار ہو سکتی ہے؟

اب میرے بھائیوں پہلے میرے سوال کو سمجھو کہ میں نے آپ سے پوچھا کیا ہے ؟؟؟رہی بات میرے اس آذادی کے بارے میں تو میں نے اپنی کوئی رائے نہیں دی صرف لوگوں سے سوال پوچھا ۔لوگوں کی رائے لینے کے بعد اب آتے ہیں اس آزادی مارچ کی طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا عورت کیا ہے اور زمانہ قدیم سے ع،و،ر،ت ان چار الفاظ پر مشتمل عورت پر بحث ہوتی آرہی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا یہاں تک کہ لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ زمین میں درگور کیا جاتا تھا اور لڑکی کے پیدا ہونے والا باپ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا تھا کہ کتنی شرم کی بات ہے کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے اور تو اور ہندو معاشرے میں عورت کو شوہر کے مرنے کے ساتھ زندہ جلایا جاتا تھا مگر جب اسلام کی روشنی آئی اور اسلام  کی وجہ سے زمانہ جاہلیت کی اندھیر نگری ختم ہوئی اور اسلام نے اس بے نام زندہ درگور کرنے والی ،ناپاک سمجھی جانے والی اس بے نام عورت کو ایک ماں ،ایک بہن،بیٹی اور بیوی کا درجہ دیا اورعورت کا مقام اس وقت اعلی سطح پر پہنچ گیا جب ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دیا گیا۔

عورت کو یہ مقام صرف اسلام نے ہی دیا ہے اورعورت کو اسلام نے ہی محفوظ رکھا ہے اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا اسلام میں حل موجود نہ ہو مگر یہاں ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے کہ ہم صرف نام کے مسلمان بنے ہوئے ہیں اور جب بات حقوق کی آتی ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے ہیں ، بالکل ٹھیک اسلام نے عورت کو نہ صرف حقوق نہیں بلکہ پہچان دیا ہے اور وہ پہچان عورت کو کہی اور جگہ  سے نہیں مل سکتا۔اسلام نے تو حقوق دئیے ہیں اور بڑے واضح انداز میں دئے ہیں مگر کیا ہم اس حقوق کی اس طرح سے پاسداری کرتے ہیں جس طرح سے اسلام نے واضح کئے ہیں؟؟؟؟ نہیں ہرگز نہیں۔

اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہم دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ہم اس پرعملی طور پر عمل نہیں کرتے جہاں پر ہمیں اپنا فائدہ نظر آتا ہے اور وہ اسلام میں بھی ہوتا ہے تو ہم بہت اطمینان سے اس کو اپناتے ہیں اور جہاں پر ہمیں لگتا ہے کہ یہ اسلام میں منع کیا گیا ہے اور اس میں ہمارا نقصان ہوتا ہے تو ہم اس کو رسم و رواج کی شکل دے کر اپناتے ہیں اور وہاں پر ہم اسلام کو ایک سائیڈ پر رکھ لیتے ہیں کیوں کیا اسلام پر ہم صرف اپنے فائدے کے لئے ہی عمل کرینگے؟؟ اسلام جو بھی بتاتا ہے اس میں ہمارا فائدہ ہوتا ہے اور نقصان کھبی بھی نہیں ہوتا مگر ظاہری طور پر جہاں ہمیں لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے مجھے مالی نقصان پہنچے گا تو ہم وہاں پر رسم و رواج میں خود کو چھپا لیتے ہیں۔

اس کی مثال یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ کہا ہے تو اسی اسلام نے عورت کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت بھی دی ہے اور اسلام نے جائیداد میں عورت کو بہن بیٹی کی صورت میں  ایک چوتھائی حصہ دینے کا حق دیا ہے مگر ہم اس معاملے میں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور یہ کہہ کر اپنا گناہ معاف کر دیتے ہیں کہ ہمارے رسم ورواج میں آج تک کسی نے بھی بہن بیٹی کو حصہ نہیں دیا۔

اسلام نے کہا کہ عورت گھر کی ملکہ ہے تو ہم نے عورت کے حقوق چھین کر اس کو گھر میں بٹھا دیا اور جہاں سلام کہتا ہے کہ عورت کی تعلیم لازمی ہے وہاں پر ہم اپنے سوچ اور رسم ورواج کو سامنے لا کر منع کر دیتے ہے تو ایسی صورت میں جب بات حقوق کی آجاتی ہے تو ہم بڑی مخالفت کرتے نظر آتے ہے کہ غلط ہے اسلام نے عورت کو حقوق دیے ہے ارے بھائی اسلام نے تو عورت کو سب کچھ دیا ہے مگر کیا ہم وہ حقوق اچھے سے ادا کر رہے ہیں؟؟ یہی وجہ ہے کہ مغرب سے یہ ایسے لوگ جو کہ ہماری عورتوں کو حقوق کے نام پر غلط راستے پر گامزن کر رہے ہیں تو وہ انہی عورتوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی تحریک کو مظبوط بنا رہے ہیں کہ کچھ غلطی ہماری اپنی ہے کہ ہم اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر اس طرح سے عمل نہیں کر رہے جس طرح سے اسلام نے ہمیں بتایا ہے۔

ہم یا تو عورت کو مکمل اندھا بہرہ کر کے گھر بٹھا دیتے ہے جس کو اچھے برے کی کوئی سمجھ نہیں یا پھر ان کو اگر ڈھیل دیتے ہے تو اتنی کہ وہ اپنے حدود ہی کراس کر جائے۔مغرب کا جو ایجنڈا ہے ہماری عورتوں کو گمراہ کرنا اس ایجنڈے میں ہماری نا سمجھ عورتیں زیادہ آجاتی ہے اور ایسی تحریک کا حصہ بن جاتی ہے کیونکہ اس کو یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو اسلام نے تعلیم کا حق دیا ہے مگر آپکے مرد حضرات آپ کو محروم کر رہے ہیں یہ آپکے ساتھ ذیادتی ہے تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ واقعی اسلام نے تو ہمیں تعلیم کا حق دیا ہے مگر ہم اس حق سے محروم ہے اس طرح جائیداد والی بات پر بھی یہی ردعمل ہوتا ہے اور پھر اسلام نے جو جو حقوق دیے ہیں وہ سب باری باری بیان کر کے ان کو بغاوت اور اس طرح کے تحریک کا حصہ بنا لیتی ہے جو کہ بعد میں میرا جسم میری مرضی کی صورت میں سامنے آ جاتے ہیں ۔اب یہاں پر نام آزادی کا استعمال ہوتا ہے اور آزادی کیا ہے ؟؟؟

آذادی کا لفظ ایک مسلمان عورت کے لئے استعمال کرنا میرے خیال میں مناسب نہیں کیونکہ اسلام نے ہی عورت کو آزادی دی ہے زندہ درگور کرنے سے ،شوہر کے مرنے کے ساتھ زندہ جلانے سے ،وغیرہ وغیرہ تو ہم پھر کس آذادی کی بات کر رہے ہیں آزاد تو ہم ہے اور محفوظ بھی ہے جہاں رہی بات جقوق کی تو ہم اپنے حقوق پر بات کر سکتے ہیں اور آواز بلند کر سکتے ہے مگر اپنے دائرے کے اندرلیکن میرا جسم میری مرضی جیسے حقوق کی میں ایک عورت ہونے کے ناطے بھر پور مخالفت کرتی ہوں اور اس جیسے بے ہودہ طریقے سے حقوق مانگنا یہ اسلامی حقوق کی نہ صرف توہین ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کے نام پر ایک دھبہ ہے اور پاکستان میں میرا جسم میری مرضی والے تحریک پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے ایسی تحریکیں عورت کو جو آذادی کے نام پر زمانہ جاہلیت کی قید کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے اور جو آذادی اسلام نے عورتوں کو دی ہے ان کو سلب کرنا چاہتی ہے کیونکہ جنسی بے راہ روی نے مغربی ممالک میں عورتوں کو خودکشی جیسے اقدامات پر مجبور کیا ہے اور بے سکونی کی طرف مائل کیا ہےاور حقوق مانگنے کا یہ کوئی مناسب طریقہ نہیں کہ کھلے بال اوپن فیس تنگ لباس میں سڑکوں پر بھیڑ بکریوں کی طرح میں میں کرتی پھریں ،میں ایک عورت ہوں اور میں بذاتِ خود اس کے خلاف ہوں اور میں اپنی ریاست سے اپیل کرتی ہوں کہ خدارا ایسی تحریکوں کو مزید تقویت نہ دیں اور ان جیسی تحریکوں پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے اور رہی بات مرد حضرات کی تو ایک عورت باپ ،بھائی،شوہر اور بیٹے کے بغیر ادھوری ہے اور مردوں کو اللہ تعالیٰ نے عورتوں سے مظبوط بنایا ہے اور اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔

ہاتھ آنکھیں پاؤں جسم عقل سب کچھ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو دی ہے مگر طاقت کے مقابلے میں عورت کو مرد سے کمزور بنایا ہے اگر فرض کریں عورتیں یہ کہتی ہے کہ ہمیں مرد کے برابر حقوق چائیے تو معذرت کےساتھ ایک عورت ایک عورت سے بچے پیدا کر سکتی ہے ؟؟؟؟؟  کیا عورت میں اتنی طاقت ہے کہ اس کو مرد کی ضرورت نہیں ہوتی؟؟؟ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ عورت کو صنف نازک نہ بناتا ۔اللہ تعالیٰ مرد اور عورت کو دو جنس بنا کے پیدا نہ کرتا ۔ایک بیٹی ایک ماں اور باپ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور باپ کون ہے ایک مرد ۔کیا بغیر باپ کے یا مرد کے وجود کے بغیر کوئی بیٹی خود بخود پیدا ہو سکتی ہے اگر نہیں تو پھر ہم کیسے یہ کہہ سکتے ہے کہ ہمیں مردوں کی برابری چائیے؟؟؟؟ ایک مسلم بہن اور بیٹی کو ہمیشہ محرم مرد کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ خود کو اس محرم مرد کے ساتھ سے ہی محفوظ سمجھتی ہے اور ایک مسلم بہن بیٹی کھبی بھی یہ نعرہ نہیں لگا سکتی کہ میرا جسم میری مرضی۔جب جسم اللّٰہ تعالیٰ نے بنایا ہے تو مرضی بھی اسی بنانے والے کی ہے اور ہوگی اور سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ عورتوں کے اور بھی حقوق ہے تعلیم حاصل کرنا ۔عزت سے رہنا ۔عورت کی عزت کرنا وغیرہ وغیرہ تو پھر کیوں اس تحریک کو جو کہ عورتوں کے حقوق کا دعویٰ کرتی ہے وہ سب کچھ پس پشت ڈال کر میرا جسم میری مرضی کو نعرہ بنائے بیٹھی ہے اس نعرہ بازی سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کو ہماری عورتوں کو پھر سے زمانہ جاہلیت کی تاریکی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے جس بات کا حق اسلام نہیں دیتا وہ کھبی بھی قابل قبول نہیں ۔لہذا ہمیں نہ صرف اسلام کو سمجھنا چاہیے بلکہ اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہیے اور عورت کو جو حقوق اسلام نے دئے ہیں وہ بہتر طریقے سے ان کو دینے چاہیے تاکہ ہماری عورتوں کے اس بات کو ہتھیار بنا کر کوئی ہمیں استعمال نہ کر سکیں اور ایسی تحریک اور محرکات کو اپنے پاؤں مظبوط کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button