انسانی حقوق

عدالت کا افغان خاتون کو پاکستانی شہری کے برابر حقوق دینے کا حکم

افغانستان میں سویت یونین کی آمد سے شروع ہونے والی جنگ کو چاردہائیاں مکمل ہو چکی ہیں لیکن اب بھی قیام امن تک رسائی کے لئے راستہ انتہائی کٹھن ،مشکل اور تاریک نظر آرہا ہے۔ کئی نسلوں نے جنگ ہی میں آنکھ کھولی تو بہت سارے تو ایسے ہی ہے کہ اس کو صرف یہ معلوم ہے کہ اس کا آبا ئی ملک افغانستان تھا۔

نئی نسل کو کئی مسائل کا سامنا کرناپڑ رہاہے جن میںزبان ، ثقافت اور شناخت شامل ہے ۔ چالیس سالہ زاہد اللہ کا تعلق ضلع باجوڑ سے ہے اور پشاور میں نجی ادارے میں بطور سیکورٹی گارڈ ملازمت کرتے ہیں۔ چھ سال قبل اُنہوں نے ایک افغان لڑکی سے پسند کی شادی کی اور اب اُن کے چار بچے ہیں ۔زاہد اللہ نے تین ماہ پہلے پشاور سیشن کورٹ میں اپنے بیوی کو پاکستانی شہری کے برابر حقوق دینے کے لئے کیس جمع کرائی لیکن یہ کام آسان نہیں تھا کیونکہ ماضی میں پاکستان اور بالخصوس خیبر پختونخوا میں ایسا کوئی مثال نہیں ملتی۔

زاہد کاکہنا ہے کہ اڑھائی سال قبل اُن کے سسرال خاندان سمیت افغانستان واپس چلے گئے لیکن آمد ورفت میں مسائل کے بناء پر اُن کے بچوں کے لئے ممکن نہیں تھاکی وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات کرسکے۔ اُن کاکہنا ہے کہ ہروقت گھر میں بس یہی ایک بات ہوتی تھی کہ آخر کیسے ممکن ہوسکے گا کہ ہم ایک دفعہ سارے آکھٹے مل بیٹھ سکے۔ ان تمام سوالات کا جواب زاہد کے پاس نہیں تھا کیونکہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان سخت شہری قوانین کے ساتھ جوڑا ہے ۔

27دسمبر 1979سے جنگ کے ابتداء ہو ئی تو مقامی آبادی نے زندگی بچانے کے خاطر ہمسایہ ممالک ،یورپ اور امریکہ کاروخ کیا جس میں اب ایک اندازے کے مطابق رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ پچاس لاکھ افغانی پاکستان آئے تھے ۔سرکاری سطح پر کوئی اعداد شمار موجود نہیں البتہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بڑی تعداد میں پاکستانی اور افغانی خاندانوں کے درمیان شادی کے رشتے ہوچکے ہے کیونکہ ان کے مذہب، ثقافت اور ایک زبان ہے۔

زاہداللہ نے تین ماہ عدالتوں کے چکر کاٹے اور اس دوران بہت سے ایسے مسائل کاسامنا کرنا پڑا جس کے وجہ سے اُن کوہمت جواب دے چکا تھا لیکن اُن کے وکیل نے اُن کو حوصلہ دیا اور دوبارہ عدالت میں درخواست دائرکیا۔ اُن کے بقول سب سے تکلیف دہ واقعہ وہ تھاکہ ایک دفعہ عدالت نے اُن کے کیس کو اس بنیاد پر خارج کردیا کہ کسی دوسرے ملک کے شہری کو پاکستان کے دوسرے شہری کے برابر حقوق دینے کے لئے کوئی قانون موجود نہیں ۔

16دسمبر 2014کو پشاور کے آرمی پبلک سکول واقعے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خاتمے لئے نیشنل ایکشن پلان اور حملہ کے منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان کے الزم کے بعد پاک افغان تعلقات میں کشید گی میں اضافہ ہوا جس کے وجہ سے افغان مہاجرین کے مسائل میں بھی کافی اضافہ ہوا اور بڑی تعداد میں لوگ کافی مشکل حالات میں اپنے ملک چلے گئے ۔ سب سے زیادہ مسئلہ اُن لوگوں کو سامناکرنا پڑا جو آزدواجی زندگی میں جوڑے ہوئے تھے اور بیوی یا شوہر کے شہریت ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔

مجیب پچھلے کئی سالوں سے وکالت کے شعبے سے وابستہ ہے اور غریب لوگوں کو مفت قانون خدمات پیش کرتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ زاہد کے وکالت نامے پر اُنہوں نے عدالت میں اُن کے بیوی کے شہریت یا نادراکے جانب سے پاکستان اوریجن کارڈ اجراء کے لئے عدالت میں درخواست جمع کیا تھا اور تین ماہ کے طویل عمل کے بعد عدالت نے زاہد کے حق میں فیصلہ دیا ہے جوانتہائی خوش آئند اقدام ہے۔ اُنہوں ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان اوریجن کارڈ بنیادی طور پر اُن کو لوگوں کوجاری کیاجاتا ہے جس نے پاکستانی شہریت کے حامل لڑکے یا لڑکی سے شادی کیں ہوں ۔ اُن کاکہنا ہے کہ اس کارڈ پر ایک بندہ پاکستان آنے کے لئے بغیر ویزے کے سفرکرسکتاہے ، جائیداد کے خرید وفروخت، بینک اکائونٹ کھولنااور موبائل سیم کارڈ اپنے نام سے لے لینا، پاکستان میں قیام کے دوران انٹیلی جنس یا سیکورٹی کو رپوٹ نہ کرنا جیسے سہولیات ایک بندہ لے سکتاہے جبکہ اس قانون میں سرکاری نوکری کے حوالے سے واضح طور کچھ موجود نہیں البتہ حکو مت کسی بھی وقت اس کارڈ کو منسوح کرنے کا اختیار محفوظ رکھتاہے ۔

عدالتی فیصلہ آنے کے بعد تو زاہد اللہ کے گھر میںتو خوشی لوٹ آئی ہے لیکن نادرا کے حکام نے اُن کے بیوی کو اوریجن کارڈ جاری کرنے کے لئے تیس ہزار روپے جمع کرنے کو کہا ہے جبکہ کارڈ بننے میں دو ماہ کے مدت بتایا گیا ہے ۔ دستاویزت میں نکاح نامہ، افغان پاسپورٹ جس پر پاکستان کا ویزہ لگا ہوا پیش کرنا ہوگا۔ کارڈبننے کے بعد تمام بچو ں کو پاکستانی شناحتی کارڈ یا فارم جاری کردیاجائیگا۔

25اکتوبر2017کو حکومت نے پاکستان اوریجن کارڈ کے اجراء پر عائد پابندی کو پانچ سال بعد ختم کردی ۔ سیکورٹی خدشات کے بناء کارڈ بنانے پر پابندی لگائی تھی۔

سرکاری اعدادی شمار کے مطابق موجودہ قت میں پاکستان کے مختلف شہروں میں رجسٹرڈ اورغیر رجسٹرڈ پچیس لاکھ افغان مہاجرین رہائش پریزر ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button