بلاگ

ہومیو پیتھی کا عالمی دن اور پاکستان

 

آج پوری دنیا میں عالمی یوم ہومیوپیتھی منایا جارہا ہے، ااس حوالے سے میں ایک معلوماتی آرٹیکل آپ کی نظر کردیتا ہوں ۔ بانی ہومیوپیتھی فریڈرک سیموئیل ہانیمن ایک ایلوپیتھک ڈاکٹر تھے جنہوں نے 10 اگست 1779 کو میڈیکل کی ڈگری حاصل کی ، اور اس کے بعد ایلوپیتھک میڈیسن کی پریکٹس شروع کردی تھی، اور کچھ ہی عرصہ میں وہ اس طریقے سے مطمئن نہیں ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے ہم محض بیماری کو جسم کے اندر دبا دیتے ہیں اور مستقل علاج نہیں کرپاتے، اسی وجہ سے انہوں نے اپنی پریکٹس بند کرکے میڈیکل کی کتابوں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنا شروع کریا تھا چونکہ وہ کافی زبانوں کے ماہر تھے۔ وہ یونہی اپنا مشن جاری رکھے ہوئے تھے کہ ایک دن ایک میڈیشنل پلانٹ سنکونا بارک کے بارے میں پڑھا جسے ایلوپیتھک میں ملیریا کے علاج کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، انہوں نے سنکونا بارک کو کروڈ فام میں استعمال کرنا شروع کردیا تھا جس سے انہیں ملیریا جیسی علامات نے گھیر لیا تھا انہوں نے سنکونا بارک کروڈ میں لینا بند کردیا تو علامات بھی آہستہ آہستہ سے ختم ہونے لگی بس یہی سے #ہومیوپیتھی کی بنیاد پڑھ گئی وہ اس بات کو سمجھ گئے تھے کہ جس چیز سے ایک بیماری جنم لیتی ہے اسی میں قدرت نے حقیقی شفاء بھی رکھی ہے۔۔۔ چنانچہ انہوں نے سنکونا بارک کو ڈائیلوٹ کیا مطلب اس کو لطیف کرنا شروع کردیا مالیکیولز کی تعداد کم ہوتی رہی اور اس میں ڈائینامک انرجی بڑھتی گئی اور یہی میڈیسن ملیریا کو ٹھیک کرنے کا ہومیوپیتھی طریقہ علاج بن گیا اور اس کے بعد باقاعدہ وہ اس طریقہ علاج پر کام کرتے رہے اور انہوں نے اس علاج کیلئے قوانین بنائیں جس میں ایک یہ بھی ہے کہ ہومیو ڈاکٹر نے مریض کی تمام علامات جس میں ذہنی اور جسمانی دونوں علامات کو فوقیت دی جائے گی تا کہ بیماری کے نام پر ادویات کا استعمال کیا جائے گا کیونکہ وہ انسان کو ایک اکائی سمجھتے تھے کہ جب ایک بیکٹریا یا وائرس انسانی جسم کے اندر بگاڑ پیدا کرئے گا تو اس کے اثرات پورے جسم پر پڑھیں گے ، 200 سال ہوگئے اور یہ طریقہ مسلسل کامیابی کی سیڑھیاں طے کررہا ہے ، اور آج جدید میڈیکل سائنس نے ان کی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ ہر مریض میں مختلف علامات ظاہر ہوسکتی ہیں ۔
ہومیوپیتھی ایک جدید طریقہ علاج ہے جو انتہائی موثر اور بے ضرر ہے ، ہمیں اپنی لائف سٹائل کو مینٹین رکھنے ، قوت مدافعت کو بہتراور بیماریوں کے چھنگل سے آزاد ہونے کیلئے اس طریقہ علاج کو اپنانا ہوگا پڑوس ملک ہندوستان مسلسل اس طریقہ علاج کو پروان چڑھا رہا ہے اور دنیا کو ہومیوپیتھی میں لیڈ کررہی ہے بدقسمتی سے پاکستان کی اس میں کوئی کانٹریبیوشن نہیں جو کہ ہماری بدقسمتی ہے اگر ہم صحت کے حوالے سے درہیش چیلنجز کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں متبادل طریقہ علاج جس میں ہومیوپیتھی سرفہرست ہے ، کی طرف آنا پڑھے گا ۔
جس سے نا صرف صحت مند پاکستان کا خواب پورا کیا جاسکتا ہے بلکہ ہم پوری دنیا کو ہومیوپیتھی ادویات کے ساتھ ساتھ ہربل ادویات سپلائی کرنے والے ملکوں کی فہرست میں سرفہرست بھی ہوسکتے ہیں ۔
۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button