خبریں

کورونا سے جاں بحق افراد کی تدفین کے قوائد میں نرمی

محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تجہیز و تکفین کیلئے گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں ٗجس میں کہاگیا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کورونا سے جاں بحق شخص سے زندہ افراد کو وائرس لگنے کے شواہد نہیں ملے ہیں ٗ لہٰذا مہلک وائرس سے جاں بحق شخص کو گھر لے جایا جا سکتا ہے ٗتاہم اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ گھر والے اور رشتہ دار میت کوہاتھ نہ لگائیں اس دوران محکمہ صحت کا عملہ تدفین تک وہاں موجود رہے گا۔

میت کو پلاسٹک کی بجائے کپڑے سے بھی ڈھانپا جا سکے گا ٗ،تجہیز و تکفین کے مراحل مکمل ہونے تک متعلقہ سرکاری عملہ موجود رہے گا جو حفاظتی امور کا جائزہ لے گا اور ماسک ٗ گلوز ٗ حفاظتی لباس کو یقینی بنائے گا ٗ میت کو صرف اور صرف گلوز پہن کر ہی چھوا جا سکے گا ٗ گائیڈ لائنز میں مزید کہا گیا ہے کہ میت والے گھر کو ان کی رسم ر رواج کے مطابق تجہیز و تکفین کے مراحل مکمل کرنے دیئے جائینگے تاہم حفاظتی تدابیر انتہائی ناگزیر ہونگی۔

غسل دینے والوں کیلئے گلوز ، چشمے اور ماسک پہننا ناگزیر قرار دیا گیا ہے اور جاں بحق ہونے والوں کی آخری دیدار کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ دیدار کرنے والوں کیلئے ماسک پہننا اور سماجی فاصلہ رکھنا لازمی ہوگا۔

محکمہ صحت کے مطابق کروونا سے جاں بحق ہونے والوں میں وائرس ختم ہوجاتے ہیں، جاں بحق افراد سے کورونا وائرس نہیں پھیلتا، بعض جاں بحق افراد کی ناک اور کان سے فلیوڈز جاتا ہے اس لئے احتتیاط لازمی ہے۔ کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کا بوسہ لینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اس سے پہلے کورونا سے جاں بحق افراد کو گھر والوں کی جانب سے غسل دینے کی اجازت نہیں تھی۔ محکمہ ریلیف نے کورونا سے جاں بحق افراد کے تدفین سے متعلق طریقہ وضع کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کورونا سے جاں بحق افراد کی میتوں کو خصوصی گاڑیوں میں ہسپتال سے منتقل کیا جائیگا۔

میتوں کی منتقلی اورغسل دینے کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائے گی، میت کوہسپتال ہی میں غسل دیا جائیگا ، میت کو لیک پروف پلاسٹک شیٹس میں لپیٹ کر تابوت میں ڈالا جائیگا۔ ہدایت نامہ کے مطابق میت کو غسل دینے کے بعد استعمال ہونیوالا پانی نالہ میں بہانے کے بجائے ضائع کیا جائے گا۔

جاں بحق افراد کے لواحقین پلاسٹک شیٹس چڑھانے کے بعد ہسپتال میں ہی آخری دیدار کرسکیں گے۔ میت کا آخری دیدار کرنے والوں کیلئے فل پروف حفاظتی کٹس پہننالازمی ہوگا۔

میت کو غسل دینے بعد جگہ کو ہائیو کلورائیٹ نامی کیمکل سے دھویا جائے گا۔ میت کے کفن پر بھی ہائپو کلورائیٹ ڈالا جائیگا استعمال کی تمام چیزیں تلف کی جائینگی۔ میت کو گھر منتقل کرنیوالی گاڑی کو واپسی پر ہائپوکلورائیٹ سے دھویا جائے گا۔

میت لے جانے والی گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ کوئی نہیں بیٹھے گا۔ میت کو گھر منتقل کرنے کے بعد کسی کو آخری دیدار کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ میت کو جلدازجلد دفنایا جائیگا ، جنازہ محدود رکھنے کی کوشش کی جائیگی۔ کورونا سے جاں بحق ہونیوالے کسی بھی میت کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جائے گا۔ میت کو منتقل ہسپتال سے گھر منتقل کرنیوالا تدفین تک وہاں موجود رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button