بلاگ

کورونا وائرس ہومیو پیتھک ادویات سے قابل علاج ہے، تحقیق

اگردنیا نے وباﺅں کی ذد سے نکلنا ہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم اب متباد ل طریقہ علاج کی طرف لوٹیں جو کہ بنیادی حل ہے کہ ہم کس طرح سے اپنی قوت مدافعت کو بہتر کرسکتے ہیں جس سے نا صرف ہم موجودہ دور کی وبائی امراض یا بیماریوں سے نجات حاصل کرسکتے ہیں بلکہ آنے والے دور کی خطرناک صورتحال سے بھی کسی حد تک نکل سکتے ہیں اور ایک بہترین حل کی طرف جاسکتے ہیں۔ہومیوپیتھی کاوباﺅں کے حوالے سے ایک زبردست ریکارڈ موجود ہیں ،جتنے بھی وبائی امراض آئی ہیں ان میں ہومیوپیتھک ادویات روایتی ادویات سے بڑھ کر مفید ثابت ہوچکی ہیں ۔جن میں چند ایک مندرجہ ذیل ہیں ۔۔

ہیضہ کی وبا ء30نومبر 1831میں ایک رپورٹ کے مطابق ایلوپیتھک ادویات سے 331مریضوں میں 229ٹھیک جبکہ 102اموات ہوئیں ۔۔۔جبکہ ہومیوپیتھک ادویات سے 349مریضوں میں 311ٹھیک جبکہ صرف 38اموات ہوئیں جو کہ ہر لحاظ سے بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔ایک اور رپورٹ کے مطابق پورے یورپ میں ایلوپیتھک ادویات سے شرح اموات 59.2%جبکہ ہومیوپیتھک ادویات
کے استعمال سے شرح اموات صرف 9%رہی جو کہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ہیضہ کی وبا ء1892 میں پھر سے ہومیوپیتھک ادویات کے استعمال سے زیادہ مریض شفایاب ہوئے اور شرح اموات 15.5%رہی جبکہ ایلوپیتھک ادویات سے یہ شرح 42% رہی۔اسی طرح Yellow Fever وباءکی بات کی جائے تو ہومیوپیتھک ادویات کے استعمال سے شرح اموات 16.4%رہی جبکہ ایلوپیتھک ادویات سے یہ شرح 83.6ریکارڈ کی گئی ہے .اسی طرح فلو کی بات کی جائے تو 1918میں 24000/26000مریضوں کو ہومیوپیتھک ادویات استعمال کرنے سے شرح اموات 1%رہی جبکہ ایلوپیتھک ادویات سے شرح اموات بہت زیادہ تھی۔ریکارڈ سے معلوم ہورہا ہے کہ ہر دور میں ہر وباءمیں ہومیوپیتھک ادویات مفید رہی جس کی واحد وجہ ہی یہی ہے کہ یہ قوت مدافعت کو بہتر کرتی ہے جس سے نا صرف شرح اموات نا ہونے کے برابر رہے بلکہ کسی بھی طرح کی پیچیدگیاں سامنے نہیں آئی ۔دور جدید میں بھی ہمیں کوروناوائرس جیسی وباءکا سامنا ہے جس کے سامنے جدید میڈیکل سائنس بھی بے بس ہوچکی ہے تاحال کوئی ویکسین تیار نا ہوسکی ،جبکہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اب ہمیں کورونا وائرس کے ساتھ رہنا پڑھے گا ،ایسے میں متبادل ادویات کیا کرسکتی ہیں۔

اسی حوالے سے ماہرین ہومیوپیتھی نے فرنٹئیر ہومیوپیتھک میڈیکل کالج کے سربراہ ڈاکٹر اقبال شاہین کی سربراہی میں جو کہ کالج کے ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ عرصہ 32سال سے ہومیوپیتھی کیلئے کام کررہے ہیں ۔ گزشتہ دن ایک پریس کانفرنس کے ذریعے انہوں نے اس تحقیق کو سب کے سامنے رکھا اور اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ ہومیوپیتھک ادویات وبائی امراض میں کس قدر مفید ہے ۔

انہوں نے حکومتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ ہومیوپیتھک کمیونٹی کو موقع دے تو کورونا وائرس جیسی حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم میڈیکل کے تمام شعبوں سے فائدہ اُٹھائیں ،ہومیوپیتھک ادویات سے نہ صرف ہم کورونا سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرسکتے ہیں بلکہ باقی کمیونٹی کو محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں ،ہومیوپیتھی اور کورونا وائرس پر ریسرچ کرنے کیلئے انہوں نے ایک ٹیم ترتیب دی جس میں تجربہ کار ہومیوپیتھک ڈاکٹرز شامل تھے ، 80مریضوں کو ریسرچ ورک کیلئے رجسٹرڈ کیا گیا ،تمام مریضوں کی علامات ( جن میں میڈیکل سے وابستہ مریض بھی شامل تھے )، اور ٹیسٹ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ادویات استعمال کروائی گئی ، جن میں 50 مریضوں کے ٹیسٹ پازیٹیو جبکہ30 مریضوں کو علامات کی بنیاد پر ادویات استعمال کروائی گئی ۔ زیادہ تر مریض 3سے 5دن میں شفایاب ہوئے جبکہ کچھ مریض 6سے 7دنوں میں بہتر ہوئے، جن مریضوں کے ٹیسٹ پازیٹیو آچکے تھے ، ان کا دوبارہ ٹیسٹ کروایا گیا جو کہ نیگٹیو ہوچکا تھا۔اس کے علاوہ انہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر بھی ہزاروں مریضوں کو آرسینکم البم 30cاستعمال کروائی جس کے نتائج بہت ہی حیران کن اور بہترین تھے۔ریکارڈ سے معلوم ہورہا ہے کہ ہر دور میں ہر وباءمیں ہومیوپیتھک ادویات مفید رہی ہیں جس کی واحد وجہ ہی یہی ہے کہ یہ قوت مدافعت کو بہتر کرتی ہے جس سے نا صرف شرح اموات نا ہونے کے برابر رہے بلکہ کسی بھی طرح کی پیچیدگیاں سامنے نہیں آئی ۔دور جدید میں بھی ہمیں کورونا وائرس جیسی وباءکا سامنا ہے جس میں چین جیسا ملک جہاں سے وباءپھیلی اور جس نے سب سے پہلے قابو کیا ان کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ہم نے Traditional Medicineیعنی کہ نیچرل ادویات /ہربل ادویات سے اس وباءسے جان چھڑانے میں مدد لی وہی پر ہندوستان جیسا ملک جو کہ میڈیکل ٹیکنالوجی میں واقعی بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے وہاں کی گورنمنٹ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز کو اس وبائی جنگ کے خلاف لڑنے کی اجازت دے چکے ہیں اور ریسرچ ورک کے مطابق ان کے پاس بہت ہی بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں بلکہ وہاں تو حفظ ِ ماتقدم کے طور پر بھی استعمال کروائی جارہی ہیں۔اس کے علاوہ کیوبا ،اٹلی سمیت کئی ممالک نے اس وبائی جنگ کے خلاف ہومیوپیتھک ادویات سے فائدہ اُٹھایا ہمیں بھی اس طرف دھیان دینا ہوگا ،اب جبکہ اس صورتحال میں ایلوپیتھک ادویات ناکام ثابت ہورہی ہے اور کوئی ویکسین نہیں ہے تو ماہرین صحت کو متبادل طریقہ علاج کی طرف جانا پڑھے گا۔ورنہ اس وباءکے مابعد اثرات دنیا کیلئے ایک بہت بڑی چیلنج ثابت ہوگی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button