بلاگ

ھوالشافی

شفا ء تو اُسی شافی مطلق کے دست قدرت میں ہے جس نے ہر مرض کی دواء یعنی علاج پیدا کیا ہے جس کی مرضی کے بغیر کائنات میں کوئی اصلاح ممکن ہی نہیں نبی کریمﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ ہر ہر مرض کیلئے دواء موجود ہے اور جب مرض کی موافق دوا ء جسم میں پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفاء ہوجاتی ہے۔یہاں اسلام نے ایک فکر،ایک سوچ طبی تحقیق کی پیش کردی ہے یعنی کہ انسان کو یہ بات سکھادی گئی تھی کہ دنیا میں جس قسم کی بھی بیماری اللہ کے حکم سے وجود میں آئی ہے، اُسی ذات نے اس کیلئے دواء میں شفاء بھی رکھ دی گئی ہے، یعنی کہ کوئی بیماری لاعلاج نہیں، نااُمیدی اور مایوسی سے روکا گیا ہے اور شفا ء کا طریقہ واضح کرکے اسے سنت نبویﷺ بنادیا ہے۔اللہ کے علاوہ نہ کوئی تکلیف پہنچانے والا ہے اور نہ ہی کوئی شفاء پہنچاسکتا ہے جب تک اللہ کا حکم نہ ہو اس وقت تک شفاء ممکن نہیں۔ اور اسی طرح انسان کی بیماری کبھی جلد ی ٹھیک ہو جاتی ہے اور کبھی زندگی کا روگ بن جاتی ہے لیکن جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ رب العزت کے حکم سے ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ عالم الغیب ہے اس کا کوئی عمل بھی حکمت سے خالی نہیں۔پھر اُسی ذات نے شفاء کے اسباب بھی پیدا کیئے ہیں اور طریقہ کار سے حضرت انسان کو آگاہ بھی کردیا گیا ہے جب تک ہم اُسی طریقہ کار پر چلتے رہے مسائل کم تھے جونہی ہم اپنے رب کے بتائے ہوئے طریقے سے پلٹے تو نقصان ہمارا مقدر بن گیا ہے۔

لفظ ھوالشافی کی ادائیگی اور یقین میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خیروبرکت انسان کیلئے موجود ہے وہ کسی نعمت سے ہر گز کم نہیں ھوالشافی ایک زمانے میں مسلم اطباء نسخہ جات کے شروع میں لکھتے اور پڑھتے تھے اصل میں ھوالشافی عقیدہ ہے کہ دوا کھانے والا اس ایمان و یقین کے ساتھ دوا کھائے کہ یہ بذات خود فائدہ نہیں کرے گی، شفا تو اصل میں اللہ تعالی دینے والا ہے۔اب بھی یہ طریقہ کچھ طبیب اپنارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں زبردست شفاء رکھ دی ہے چونکہ اس لفظ ھوالشافی کے استعمال کا مقصود یہ اشارہ کرنا ہوتا تھا کہ شفاء تو اسی شافی مطلق کے ہاتھ میں ہے جس نے مرض پیدا کیا،جس نے اس کے ٹھیک ہونے کے اسباب پیدا کئے ہیں، اسی طرح مریضوں کو کہا جاتا تھا کہ دوا کھانے سے پہلے ہوالشافی ضرورپڑھ لیں، مرض سے مکمل چھٹکارا پانے کے لئے شافی مطلق سے التجا کرتے ہوئے مریض دوائیں استعمال کرتا تھا۔

یہ طریقہ کار اب بہت کم ہوچکا ہے بلکہ مادی ذہنیت غالب آچکی ہے،حالانکہ علاج ومعالجہ اسباب مرض کو مدنظر رکھ کر ہی کئے جاتے ہیں لیکن ان ساری چیزوں کے باوجود،جدید تحقیق کے باوجود بھی بیمار ٹھیک نہیں ہوتے کچھ ٹھیک ہو بھی جاتے ہیں لیکن بحثیت مسلمان ہمارے رب نے ہمیں شفاء کاملہ کا طریقہ بھی بتا دیا ہے،حضرت موسٰی ؑ کو کلیم اللہ یعنی کہ االلہ سے کلام کرنے والا، لقب ملا تھا، اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کا شرف حاصل تھا ایک مرتبہ اللہ رب العزت سے فرمانے لگے کہ اے اللہ میرے پیٹ کا درد مجھے بے چین رکھتا ہے، اللہ نے ارشاد فرمایا پہاڑی کے پاس جو پودہ ہے اس کے پتے چبھالیں، حضرت موسٰی ٰؑؑ نے وہی کیا اور شفایاب ہوئے،اس کے بعد جب بھی تکلیف ہوئی اس پود ے کے پتے چبھانے لگے لیکن شفاء نہیں ملی،اگلی بار اللہ سے کلام کے دوران جب پوچھا تو اللہ نے فرمایا اے موسیٰؑ شفاء اس پودے کے پتوں میں نہیں بلکہ میرے حکم،امر کی وجہ سے ہے۔

لہٰذا یہ بات ثابت ہوگئی کہ اسباب اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو بہت میسر کئے ہیں لیکن شفاء اسی ذات کے حکم سے ہے اور یہی یقین اور ایمان کا حصہ ہے جب تک اس بات کی حقیقت کو پھر سے مریض اور معالج سمجھ نہیں پالیتے شفاء ممکن نہیں۔ طبی وجوہات کی تلاش و تحقیق ہر زمانے میں جاری رہی ہیں اور طبی محققین اپنے اپنے انداز میں اس سلسلے میں عجز و ماندگی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں قطعی علم صرف اللہ جل شانہ کے پاس ہے۔ جس میں سے تھوڑا تھوڑا مختلف افراد کو مختلف زمانوں میں عطا کیا گیا ہے۔ایک اور اہم بات اس میں ایمان سے متعلق ہے کہ سب کچھ ہوجانے کے بعد امر الٰہی یعنی اللہ کا حکم شفاء ہونا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے ھوالشافی لکھنے اور کہنے کی۔

ایک مسلمان اس حقیقت کا اقرار کرتا ہے کہ شفاء وہیں سے ملے گی اور کہیں سے نہیں۔ چنانچہ سنت پر عمل کے لئے علاج معالجہ کرتے ہوئے رب کائنات سے دعاء کے ذریعہ رابطہ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ مریض کے لئے بھی اور معالج کے لئے بھی۔ آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ الفاظ،اعداد وغیرہ بھی جاندار چیزوں پر اثرانداز ہوتی ہے اور بالکل ایسا ہی ہے آپ اچھے الفاظ کا استعمال کریں، تو آپ کی زندگی میں اس کا اثر ہوتا ہے بلکہ یہاں تک کہ انسان کے نام جس سے پکارا جاتا ہے، اسکا بھی انسانی شخصیت پر اثر ہوتا ہے اسی حوالے سے جاپان کے ایک مصنف نے اس بات کو اپنے تجربے سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔پانی جیسینعمت کی اہمیت بیان کرنے کی ضرورت نہیں،جوکہ غیر جاندار ہے مگر کیسا رہے گا اگر آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ پانی بھی زندگی رکھتا ہے۔ بلکہ یہ آپ کے الفاظ،گفتگو اور ماحول کا اثر بھی قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ اپنی ایک یادداشت بھی رکھتا ہے اوراس کا اظہار بھی کرتا ہے۔یہ تحقیق جاپان کے مصنف ماسارو ایموتو نے 1999ء میں اپنی شائع ہونے والی اپنی کتاب ’دی میسج فرام واٹر‘ میں بیان کی ہے
پانی کی اس حیران کن ممکنہ خوبی پر جاپان HADO انسٹیٹیوٹ میں تحقیق کی گئی اور یہجاننے کی کوشش کی گئی کہ کیاواقعی میں پانی پر اپنے آس پاس کی اشیاء، انسانی جذبات، سوچ،ماحول اور رویوں کا اثر ہوتا ہے؟
ہیڈو انسٹیٹیو ٹ کے مطابق پانی کے 2 نمونے لیے گئے اور ان میں سے ایک پر انگریزی لفظ Family, Love,Thank You اور دوسرے پر You Made Me Sick کا جملہ تحریر کیا گیا۔ کچھ دیر بعد، اُس پانی کو جما دیا گیا، جب یہ پانی مکمل طور پر برف بن گیا تو جدید خوردبین کے ذریعے اس برف کے ذرات کی تصویر لی گئی اور نتائج حیران کن تھے، جس پانی پر لفظ ’فیملی‘، ’لو‘ اور ’شکریہ‘ لکھا گیا تھا اُس کے کرسٹلز نہایت خوبصورت، متوازن اور دلکش تھے جبکہ جس پانی پر لفط ’یو میڈ می سک‘ لکھا گیا تھا اُس کے کرسٹلز نہایت گندے اور بدصورت نکلے۔سوچنے کی بات ہے کہ ایک تحقیق جو کہ غیر جاندار چیز پر کی گئی ہے اور اسے میں یہ سب خصوصیات موجود ہیں کہ وہ جانداروں کی طرح اپنے اردگرد ماحول اور حتیٰ کہ اچھے بُرے الفاظوں کے مقابلے میں اس کا اُسی طرح سے اظہار بھی کرتا ہے چونکہ یہ ایک نئی تحقیق ہے لیکن یہ تو ایک اٹل حقیقت ہے بلکہ مختلف تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ انسان پربھی ہر لفظ، گفتگو،ماحول، مختلف رویوں،حالات اور سوچ کے بہت گہرے اثرات ہوتے ہیں۔

انسانی سوچ نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات دوسرے لوگوں پر بھی ہوتے ہیں۔ اچھی اور مثبت سوچ کے حامل افراد کے جسم میں سے مثبت لہریں نکلتی ہیں جو آس پاس کے ماحول، افراد اور چیزوں پربھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ جبکہ منفی سوچ، اضطراب، حسد، بیماری،غصہ، کینہ اور اس قسم کے دیگر خیالات انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ماحول کے لیے بھی نہایت نقصان دہ ہیں۔

انسانی رویوں کا مشاہدہ کیا جائے تو بھی یہ بات سامنے آتی ہی کہ جو افراد مثبت سوچ اور خیالات کے حامل ہوتے ہیں اُن کی ذاتی زندگی نہایت خوشگوار ہوتی ہے۔ وہ زندگی زیادہ اچھے انداز میں جیتے ہیں، اُن کی صحت بہتر رہتی ہے، جدید تحقیق بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اگر انسان غمی خوشی،بیماری وغیرہ میں اچھے الفاظ کا استعمال کرتا ہے تو نہ صرف وہ خود اس پریشانی یا مصیبت سے چھٹکارہ پالیتا ہے بلکہ اس کے اردگرد لوگو ں کی زندگی پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں پس ثابت ہوا کہ لفظ ھوالشافی کی تاثیر کس قدر اہم اور ضروری ہے موجودہ دور کی لاعلاج بیماریوں کی بھیڑ میں جہاں مریض اور معالج دونوں پریشان ہیں اگر اس چھوٹے سے عمل کو ہم دوبارہ زندہ کرلیں تو یقینا ہماری یہ مشکل بھی آسان ہوجائے اور مریض کو شفاء کاملہ کے ساتھ ساتھ ایک بہترین زندگی مل جائے، بے شک اس کائنات کی ہر اصلاح اس ذات کے دست قدرت میں ہے چنانچہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے میں اطباء و معالجین اپنے نسخوں کی ابتداء بجائے Rx کے اسی لفظ ھوالشافی سے کریں تاکہ ذہن و قلب سے یہ بات غائب نہ ہونے پائے کہ شافیء مطلق اللہ ہی کی ذات ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button