بلاگ

عالمی دن برائے ہیپاٹائٹس اور ہومیوپیتھک ادویات

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس کا مرض اس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ ہردسواں شخص ہیپاٹائٹس کا شکار ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعدادتقریباً ایک کروڑچالیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، ہیپاٹائٹس کے پھیلاو کی بنیادی وجہ عوام الناس میں اس مرض کے حوالے سے شعور کی کمی اور علاج معالجے کی سہولیات کی عدم دستیابی ہے،عالمی ماہرین صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی بڑھتی ہوئی صورتحال کی ایک بڑی وجہ (ترڈ) جنریشن انٹی بائیوٹیک ادویات ہیں.

انسانی جسم پر خطرناک حملہ کرکے انٹی بائیوٹیک ادویات ہیپاٹائٹس اور خاص طور پر ہیپاٹائٹس سی کی وجہ بن رہی ہے،امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی نئی تحقیق کے مطابق 2000؁ٗ ؁ء سے 2015؁ء کے درمیان پاکستان میں انٹی بائیوٹیک ادویات کے استعمال میں 65%اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ، تحقیق کے مطابق 2000؁ء میں انٹی بائیوٹیک ادویات کا سالانہ استعمال 80کروڑ تھا جو کہ اب بڑھ کر ایک سو تیس کروڑ ہے، اور اس اضافہ کی وجہ سے پاکستان انٹی بائیوٹیک کے بے تحاشا استعمال کی وجہ سے عالمی سطع پر تیسرے نمبر پر ہے، اور انہی وجوہات کی وجہ سے پاکستان میں مختلف بیماریوں کے خلاف انٹی بائیوٹیک ادویات غیر موٗثر ہوچکی ہے جو کہ بہت ہی خطرناک اور قابل توجہ مسئلہ ہے اگر اس پر قابو پانے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل میں یہ ایک عالمی وبائی شکل اختیار کرسکتی ہے.

اس صورتحال کی وجہ سے عالمی ماہرین صحت متبادل ادویات کی طرف دیکھ رہے ہیں،دنیا بھر میں ہومیوپیتھک ادویات کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے، باقی مختلف قسم کی بیماریوں کے ساتھ ہیپاٹائٹس میں بھی یہ ادویات بہت ہی فائدہ مند ثابت ہورہی ہے اور خاص طور پر ہیپاٹائٹس سی جس کی ویکسین موجود نہیں ہے، اس میں بھی ہومیوپیتھک ادویات بہت فائدہ مند ثابت ہورہی ہے بلکہ ہیپاٹائٹس کے مریض ٹھیک ہورہے ہیں.

دنیا بھر کی طرح ہمیں بھی متبادل ادویات کی طرف آنا پڑے گابلکہ ہمارے پاس بہترین میڈیشنل پلانٹس بھی موجود ہیں اور ہم پوری دنیا کو ہومیوپیتھک ادویات کی سپلائی کرنے والے ملکوں میں سرفہرست ہوسکتے ہیں، حکومتی اداروں کو متبادل ادویات کی ترقی وترویج کیلئے کام کرنا چاہئے یہ وقت کی بہت ہی اہم ضرورت ہے، ہیپاٹائٹس اور دوسری خطرناک بیماریوں کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ ہم متبادل ادویات کو بھی نیشنل پلان کا حصہ بنائیں، ہندوستان کی طرح ملک بھر میں ریسرچ سنٹرز بنائیں تاکہ مختلف خطرناک بیماریوں میں ہومیوپیتھک ادویات کی کامیابی کو ریکارڈ کیا جاسکے جو کہ پوری دنیا کی ضرورت ہے۔

ہیپاٹائٹس کی پانچ قسمیں ہیں۔A,B,C,D,Eاو ر ان کی تشخیص مریضوں کا باقاعدہ ٹیسٹ کرنے سے ہوتی ہے۔ہیپاٹائٹس Aاور E آلودہ غذا اور پانی استعمال کرنے سے ہوتا ہے۔اس کا علاج آسانی سے ہوجاتا ہے۔ہیپاٹائٹس Bاور Cکا وائرس خاموشی سے پیدا ہوتا ہے۔اس کی علامتیں ظاہر نہیں ہوتیں۔اگر مریض کو علاج کے بغیر بہت عرصہ تک چھوڑا جائے تو وہ معدہ کا زخم،بے ہوشی،اور لیور فیل ہوکر موت کا شکار ہوسکتے ہیں پوری دنیا میں اس وقت 52کروڑ سے زائد لوگ اس موذی بیماری کا شکار ہے۔اور دنیا بھر میں لیور کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہیپاٹائٹس Bاور Cکا وائرس ہے۔ یہ وائرس پاکستان میں بڑی تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔
ہیپاٹائٹس Bاور Cکے پھیلنے کی بڑی وجوہات نشہ آور انجکشن،استعمال شدہ سرنج اور جنسی پارٹنر سے تعلقات ہیں۔ہمار ے یہاں اس بیماری سے متعلق لوگوں میں شعور کی کمی ہے۔جس کی وجہ سے بے شمار مریض بالکل لاعلم ہیں۔سرکاری اور غیر سرکاری طور پر اس بیماری کی روک تھام کیلئے عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا 75فیصد لوگوں کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے۔

حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنے سے ہیپاٹائٹس اے اور سی سے بچاجاسکتا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہصاف پانی استعمال کیا جائے، پانی اُبال کر استعمال کیا جائے، کیونکہ پاکستان میں پانی میں آسینک نامی زہر کا لیول مسلسل بڑھ رہا ہے جو کہ ہیپاٹائٹس سی کی وجہ بن رہی ہے.

پاکستان میں ہیپاٹائٹس دنیا کی دوسر ی بڑی بیماری ہے اور اس کا علاج عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔کیونکہ مقامی طور پر اس کے انجکشن تیار نہیں ہوتے اور باہر سے درآمد کرنا پڑتے ہیں۔جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اس طرف توجہ ہی نہیں دیتے اور وہ ہیپاٹائٹس کے ساتھ ہی احتیاط کئے بغیر زندگی گزاررہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بہت پیچیدگیاں بڑھ رہی ہے اور ایک قسم کے مریضوں میں ہیپاٹائٹس تشخیص ہونے کے باوجود وہ مہنگی ادویات استعال نہیں کرسکتے جن کی وجہ سے مسلسل پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہے یعنی جگر کا چھوٹا اور بے ڈول ہوجانا، جگر کا کینسر، جسم سے خون کا اخراج ہوسکتا ہے تھکن،کمزوری وغیرہ ہوسکتی ہے۔اس حوالے سے ہم متبادل ادویات جس میں ہومیوپیتھی سرفہرست ہے، کی مدد سے اس صورتحال کو قابو کرسکتے ہیں یہ ادویات پاکستان میں خود بنائی جاسکتی ہے۔اور ویکسین کی طرح مہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ایک عام فرد بھی اس سے مستفید ہوسکتا ہے اور اس طرح سے عالمی ادارہ صحت کے دئیے گئے چیلنج پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button