بلاگ

پیر و مرشد اور بیعت

 تحریر: نرگس پروین مہر۔۔خیرپور ٹامیوالی

آئے دن مختلف ذرائع سے جعلی پیروں کے بارے میں نت نئی کہانیاں سننے میں آتی ہیں کہیں پیر لاکھوں روپے کی لوٹ مار اور ڈاکو میں شامل نظر آتے ہیں تو کہیں ٹی وی کے کسی نامور پروگرام میں ایسے جعلی پیر بابا کو بے نقاب کیا جا رہا ہوتا ہے جو لوگوں کو مشکلات حل کرنے کا لالچ دیکر لوگوں کی عزتوں سے کھیلواڑ کیا جارہاہوتا ہے تو کہیں تبرکات کے نام پر لوگوں کو نشے کی لت لگانے کے تانے بانے بننے جا رہے ہوتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ سب چیزیں ہم روزانہ نہ صرف ٹیلی ویژن شوز میں بلکہ اپنے اردگرد بھی اکثر جعلی پیرمعافیاکو بے نقاب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر پھر ان پر اس قدریقین رکھتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں محنت کی کمائی ،مال و اسباب اور عزتیں لوٹا بیٹھتے ہیں اگر اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جائے تو یہ بات منظر عام پر آتی ہے کہ یہ لوگ جدید سائنس کا سہارا لیکر کچھ ایسے کرتب دکھاتے ہیں جسے سادہ لوح لوگ معجزہ سمجھتے ہیں اور یہ جعلی پیر مافیا ان کے دماغ پر حاوی ہو کر لوٹ مار کا بازار سرگرم رکھتے ہیں مگر تعلیم یافتہ طبقہ جدید سائنسی معلومات سے واقفیت کی بنیاد پر ان کرتب کو آنکھوں کے دھوکے کا نام دیتے ہیں اور اس کو ماننے سے انکاری نظرا ٓتے ہیں مگر ان تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیئے کوئی ٹھوس دلائل نہیں ہوتے کیونکہ سادہ لوح لوگ اس موقف (پیرومرشد) سے مذہبی عقیدت رکھتے ہیں اور ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ مغربی تعلیمات حاصل کرنے کے سفر میں ہم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے ایسے حالات میں دو طبقات (پڑھے لکھے اور ان پڑھ) اور دو جنریشن (والدین اور اولاد) کے درمیان نظریاتی فرق خلش کا سبب بنتے ہیں بزرگ اور پیرو مرشد پریقین رکھنے والے حضرات اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ پڑھے لکھے لوگوں کا تو دماغ ہی خراب ہے چار انگریزی کتب پڑھ کر دین اسلام پر فتوی لگا رہے ہیں کچھ برے اور جعلی پیروں کے سبب ہم پیروں کو ماننا اور ان کے پاس جانا ہی چھوڑ دیں؟ ایسی ہی باتیں اکثر مجھے اپنی والدہ محترمہ سے سننے کو ملتی ہیں کیونکہ ہمارے گھر میں میری والدہ کے علاوہ کوئی بھی پیر باباﺅں کو نہیں مانتا اور نہ ہی کبھی کسی مقصد کے لیئے ان کے پاس جانا پسند کرتے ہیں اس لیے ہمیشہ جب بھی کوئی مشکل در پیش آتی ہے یہی سننے کو ملتا ہے کہ جن کے پیرو مرشد نہیں ہوتے مشکلات انہیں آسانی سے گھیر لیتی ہیں ان باتوں نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیاواقعی ایسا ہوتا ہے یا یہ محض خام خیالی ہے اس تگ و دو میں،میں نے مختلف لوگوں سے ان کے نظریات جانے تو کچھ ضروری سوالات سامنے آئے کسی بھی نتیجہ تک پہنچنے کے لیئے جن کے جوابات کا حصول انتہائی اہم تھا پہلا سوال پیرو مرشد و مرید اور بیعت کسے کہتے ہیں اور پیرو مرشد و مرید کو کیسا ہونا چاہیں؟

لفظ پیر فارسی زبان کا لفظ ہے اور مرشد عربی زبان کا لفظ ہے جس کا ہم معنی الفاظ شیخ بھی اسی مقصد کے لیئے استعمال ہوتا ہے اور اردو میں اس کے لیئے لفظ استاد اور انگریزی میں لفظ Teacher استعمال ہوتا ہے اور لفظ مرشد کے معنی رہنما یاروحانی رہنما استاد اور وعدہ لینے والے کے ہیں لفط مرید عربی زبان کا لفظ ہے فارسی اور اردو میں اس کے لیئے لفظ شاگرد اور انگریزی میں لفظ Discipleاستعمال ہوتا ہے اور اسکے معنی کسی کو ماننا کسی کی پیروی کرنا اور وعدہ کرنے کے ہیں اور لفظ بیعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مختلف معنی ہیں بیعت کے معنی وو ٹ کرنے اور بیعت کے معنی وعدہ کرنے کے بھی ہیں مرشد ایسا شخص ہوتا ہے جو نیک متقی پرہیزگار اور دین اسلام کی مکمل معلومات رکھتا ہے اور رہبر ہوتا ہے مرید ایسا شخص جو اللہ اور اس کے نبی کی محبت کے حصول کے لیئے رہبر یا مرشد تلاش کرتا ہے اور اس کی بیعت کرتے ہیں کہ اپنا تمام گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اپنے رہبر سے تمام اسلامی تعلیمات سیکھ کر ان پر عمل کا وعدہ کرتے ہیں ۔

دوسرا سوال کیااسلام میں پیرومرشد کا کوئی تصور ہے؟ کیا پیرومرشد کا ہونا لازم ہے؟
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی اصلاح کے لیئے دو سلسلے جاری فرمائے ایک رجال اللہ اور دوسرا کتب اللہ دونوں ہی لازم وملزم کیونکہ اگر صرف کتابوں کو ہی فرشتوں کے ذریعے کسی خاص مقام پر نازل کر دیا جاتا تو انسانوں کے لیئے اس کتاب کو سیکھنا اور سمجھناناممکن ہوتا اس لیے اللہ پاک نے رجال اللہ یعنی انبیاءکا سلسلہ شروع کیا مگر اللہ پاک نے ہمارے پیارے حضرت محمدﷺ کو خاتم النبین بنا کے بھیجا اور آپ قیامت تک کے انسانوں کے لیئے رسول اور بنی ہیں اور آپ پر آخر ی کتاب قرآن مجید نازل کی گئی جو کہ قیامت تک کے انسانوں کے لیئے رہنمائی فراہم کر ے گی قرآن پاک کی رو سے پیرومرشد کا تصور دیکھے تو سورہ الکہف آیت نمبر 17
آیت:ذٰ لِکَ مِن± اٰیٰتِ اللّٰہِ ط مَن± یَّھ±دِ اللّٰہُ فَھُوَ ال±مُھ±تَدِ ج وَ مَن± یُّض±لِل± فَلَن± تَجِدَلَہ‘ وَ لِیّاًمُّر±شِدًا ٭
ترجمہ: یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لیئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاﺅ گے۔
اس طر ح ایک اور سورہ توبہ آیت نمبر119میں ہے کہ
آیت:یٰٓاَ یُّھَاالَّذِی±نَ اٰمَنُو ااتَّقُوااللَّہَ وَ کُو±نُو± امَعَ الصّٰدِقِی±نَ ٭
ترجمہ:اے اہل ایمان اللہ سے ڈرتے رہواور راست بازوں کے رہو۔
بس ان دونوں سورہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں اس کا تصور موجود ہے اور تاریخ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضور پاک کے دور میں لوگ حضور کی بیعت کیا کرتے تھے حضور پاک کی وفات کے بعد صحابہ اکرام نے حضرت ابوبکر صدیق کی بیعت کی اور ان کی وفات کے بعد حضرت علی ؓ کی بیعت کی اور یہ سلسلہ جاری رہا اور حضرت اما م حسین کوفہ یزید سے بیعت لینے کے لیئے ہی گئے اور راست بازوں اور نیکوں کاروں کو انبیاءکا وارث قرار دیا گیا ہے اسلام میں پیرومرشد یا رہبر کا تصور تو موجود ہے لیکن اسے واجب قرار نہیں دیا گیا کسی شخص کا کسی رہبر کو تلاش کرنا اور اس کی بیعت کرنا غلط نہیں ہے لیکن ضروری ہے کہ رہبر ایسا شخص ہو جس کے قول و فعل میں کوئی تضاد ناہواور مکمل اسلامی تعلیمات رکھتا ہونیکی کی دعوت دیتے اور بدی سے پرہیز کی تلقین کرتا ہو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتا ہو ایسے شخص کی بیعت کی جا سکتی ہے مگر بیعت کے لیئے بھی خواتین اور مرد دونوں کے لیئے الگ طریقے ہیں مسلمانوں پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت لازم ہے لیکن کسی کی بیعت کرنے والے پر اللہ اور اسکے رسول کے ساتھ اپنے پیرومرشد کی اطاعت بھی لازم ہوتی ہے بیعت سے پیرومرشد پر مرید کے اور مرید پر پیرومرشد کے کچھ حقوق کی ادائیگی لازم ہوتی ہے جیسے پیرومرشد کے لیئے لازم ہے کہ وہ مرید کو نیکی کی طرف راغب کرے برائی سے بچائے اور مرید پر اپنے پیر کی اطاعت واجب ہے اور ہماری زندگی میں آنے والی مشکلات ہمارے غلط طرز زندگی اور گناہوں کے سبب ہوتی اور کچھ مشکلات آزمائشیں ہوتی ہیں جن کا حل صیح راہ پر چلنا اور اللہ سے مدد مانگنا ہے قرآن پاک کی مختلف سورہ کے نقش کو مشکلات کے حل کے لیئے لکھ کے محفوظ کرنے کی روایت تو نظر آتی ہے مگر ان کو جلانے بہانے اور اس طرح کی بدعتوں کاکوئی مقام نہیں اور قرآن پاک کی موجودگی میں ان نقوش کی بھی ضرورت نہیں اس لیے منفی عملوں اور تعویزوں کے لیئے کسی کی بیعت کرنا غلط ہے اور کسی کے سامنے نذرانے پیش کر کے مدد مانگنا بھی غلط ہے اس قسم کی پیری مریدی کا اسلام میں کوئی تصور موجود نہیں اور جس طرح نبی کے بیٹے کا نبی ہونا ضروری نہیں اس طرح پیرومرشد کے بیٹے کا پیرومرشد ہونا بھی ضروری نہیں اس لیئے ضروری ہے کہ سچے لوگوں سے فیض یاب ہو اورایسے جعل سازوں سے دور رہیں اور دوسروں کو بھی آگاہی فراہم کریں مگر یہ ہمارے صوبہ پنجاب کا المیہ ہے کہ پاکستان کے باقی صوبوں کی نسبت صوبہ پنجاب میں مافیا کئی گنا زیادہ سرگرم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button