بلاگ

ابنِ آدم

تحریر: شمائلہ راجپوت

وہ بوجھل قدموں سے سڑک پر چلے جارہی تھی اور یہ سوچ رہی تھی کہ یہ سڑک شیطان کی آنت جیسی لمبی ہوتی جارہی ہے۔اس کے شل ہوتے ہوئے قدم بتا رہے تھے کہ زندگی کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے وہ تھوڑا تھک سی گئی ہے اور یہ بوجھ اس کی قدموں سے لپٹ کر اس کی روح تک آگیا ہے۔گرمی کی شدّت کو سہتے ہوئے اس کے راجپوتانہ ماتھے پہ دو چار شکنیں اور بڑھ گئیں۔غم و غصّے کی ایک ملی جلی سی گرماہٹ بھی اس کے چہرے پہ نمودار ہو چکی تھی کہ اچانک ہی ایک کھٹارہ سی بائیک پھڑ پھڑاتی ہوئی اس کے قریب آکر رک سی گئی۔اس پر سوار ایک شخص جو شکلاََمولانا کا روپ دھارے ہوئے تھا بڑے ہی بے تکلفانہ انداز میں مخاطب ہوا۔۔۔۔

السلام علیکم! آپ جاب کرتی ہیں؟

بنتِ حوّا نے اپنے راجپوتانہ ماتھے پہ دو شکنیں اور بڑھائیں اور نہایت ہی سرد لہجے سے سوال داغا۔۔۔
آپ کون کیا میں آپ کو جانتی ہوں؟؟؟نہیں ناں۔۔۔۔

شکلاََ مولانا کا روپ دھارے ہوا وہ ابنِ آدم نہایت ہمدردی آمیز لہجے میں بولا ”جی آپ کی ڈیوٹی کافی سخت ہے میں صبح آپ کو جاتے ہوئے دیکھتا ہوں اور ہاں آپ میری دکان
کے ساتھ والے کلینک پر دوائی بھی لینے آئی تھیں ناں؟

اس کی غلیظ نظریں مسلسل بنت ِحوّا کے چہرے طواف کر رہی تھیں بالکل ویسے ہی جیسے کوئی گدھ کسی مردار کا طواف کرتا ہے۔اُن غلیظ نظروں میں ایک سوال تھا کہ کیا کلینک کی طرف
پھر آؤ گی؟ تاکہ میں اپنی نظروں کی ہوس کو پورا کر سکوں۔۔۔۔۔

بنتِ حوّا کے لب کھلے اور ان میں سے چند جملے ایسے نکلے جن میں کسی راجپوت کی تلوار کی کاٹ نمایاں تھی۔۔۔۔۔
”جی ہاں میری ڈیوٹی بہت سخت ہے لیکن میرے ہاتھ اور میرا جوتا اس ڈیوٹی سے بھی زیادہ سخت ہے۔۔۔دوائی لینے میں جاتی ہوں کلینک پر مگر مجھے لگتا ہر علاج کی ضرورت آپ کو ہے۔میرے گھر میں تین مردِ مجاہد موجود ہیں جو آپ کا علاج نہایت ہی اچھے سے کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ چاہیں؟

یہ سننے کی دیر تھی کہ شکلاََ مولانا صاحب نے فوراََ ہی پینترا بدلا او ر بولے۔۔۔۔
باجی۔۔ ۔میں ذرا اپنی دکان کھولنے کے لیے ہی نکلا تھا۔۔۔شاید اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ میری دکان توبعد میں کھلے گی سر آج پہلے کھل جائے گا۔ اپنا باجی والا پاک جملہ مکمل کر کے وہ اپنی بائیک کے ساتھ ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔
بنتِ حوّا نے چلتے چلتے سوچا۔۔۔

اس نام کے مسلم معاشرے میں بنتِ حوّا جتنی بھی بل بتوری بن کے نکلے ابنِ آدم اپنی جادو گریوں سے باز نہیں آتااور اس بل بتوری کا ہامون بھائی بننے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔
کیا آپ کو کبھی کوئی ہامون بھائی ملا؟؟؟؟ ملا تو بتائیے گا ضرور۔۔۔۔۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button