خبریںمعلومات تک رسائی

سول سوسائٹی نے پارلیمنٹ کو معلومات تک رسائی کے قانون سے مستثنی قرار دینے کے بل کو یکسر مسترد کر دیا

کولیشن آن رائٹ ٹو انفارمیشن (سی آر ٹی آئی) نے نجی رکن کے بل کے طور پر سینیٹ میں پیش کئے گئے "معلومات تک رسائی کے حق کے ترمیمی بل، 2020 "کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے منظوری کی صورت میں اس ترمیمی بل کے تحت معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کا دائرہ محدود ہو جائے گا کیونکہ اس کے تحت ان عوامی اداروں یا ‘پبلک باڈیز’ کی تعریف سے پارلیمنٹ کو خارج کر دیا گیا ہے جو شہریوں کو معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ سی آر ٹی آئی اس اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے کیونکہ یہ ناجائز، غیرآئینی اور پاکستانی عوام کے مفادات کے منافی ہے۔

سی آر ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے منعقد کی گئی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد، انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ (ارادہ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آفتاب عالم، ڈائریکٹر پروگرام میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی صدف خان، سنٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکانٹیبلٹی (سی جی پی اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد انور اور دیگر ارکان کا کہنا تھا کہ معلومات تک رسائی کا حق، آفاقی طور پر تسلیم شدہ بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ، 1948، اور شہری و سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ، 1976، اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان ان کنونشنز پر دستخط کر چکا ہے اور ان کی توثیق بھی کر چکا ہے، لہذا، پاکستان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو ان کنونشنز میں شامل حقوق کی فراہمی یقینی بنائے۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 اے میں بھی معلومات تک رسائی کے حق کو ہر شہری کے بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ:
"ہر شہری کو عوامی اہمیت کے تمام امور پر قواعد اور قانون کے تحت عائد کی گئی معقول پابندیوں کی شرط پر معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہو گا”۔

آرٹیکل 19 اے میں عوامی اہمیت کے تمام امور پر معلومات تک رسائی کا حق واضح طور پر دیا گیا ہے ، اور اس میں واشگاف الفاظ میں یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ قانون کے تحت صرف معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

معلومات تک رسائی کے حق کے ایکٹ، 2017، میں وفاقی حکومت کے عوامی اداروں یا پبلک باڈیز سے متعلق معلومات کے حصول کے لئے شہریوں کے حق پر عملدرآمد کا ایک تفصیلی طریقہ کار طے کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے صوبوں (خیبرپختونخوا اور سندھ) اور دنیا بھر کے کئی دیگر ممالک (مثلاً بھارت) میں نافذ اس نوعیت کے قوانین کی نسبت یہ قانون پہلے ہی کمزور ہے۔

حال ہی میں پانچ سینیٹرز نے معلومات تک رسائی کے حق کے ایکٹ، 2017، کو مزید کمزور کرنے کے لئے نجی رکن کا ایک بل پیش کیا ہے۔ بل پیش کرنے والے ارکان سینیٹ میں ساجد حسین طوری، ولید اقبال، محمد علی خان سیف، منظور احمد اور مرزا محمد آفریدی شامل ہیں۔ بل کے ذریعے ایکٹ کے سیکشن 2(ix) کی شق (c) کو حذف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے تحت پارلیمنٹ (سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں) اس ایکٹ کے دائرہ اختیار سے خارج ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ شہری سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں کے سیکرٹیریٹ سے معلومات حاصل نہیں کر سکیں گے۔

مجوزہ ترمیم اگر منظور ہو گئی تو پارلیمنٹ واحد ادارہ بن جائے گی جس کے کسی بھی امور کے بارے میں شہری معلومات تک رسائی کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ مجوزہ ترمیم، پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں، آئین کے آرٹیکل 19 اے اور شہریوں کے اس بنیادی جمہوری حق کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کے تحت وہ اپنے نمائندوں اور حکومت کا احتساب کر سکتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 19 اے میں کسی بھی ادارے کو معلومات تک رسائی کے عوامی حق کے دائرہ اختیار سے مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔ اس میں صرف ‘معقول پابندیوں’ کی بات کی گئی ہے لیکن مجوزہ ترمیم کسی بھی لحاظ سے ‘معقول پابندی’ کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔ یہ اس ایکٹ کو کمزور بنانے اور شہریوں کو پارلیمنٹ سے متعلق ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی کھلی کوشش ہے حالانکہ پارلیمنٹ، پاکستانی عوام کا نمائندہ ادارہ ہے اور یہ ان کے سامنے جوابدہ ہے۔

جہاں تک پس منظر کا تعلق ہے تو یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ معلومات تک رسائی کے حق کے ایکٹ، 2017، کے نفاذ کو تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور سینیٹ سیکرٹیریٹ نے ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔ اگرچہ پاکستان انفارمیشن کمیشن بھی اس ضمن میں احکامات جاری کر چکا ہے لیکن سینیٹ سیکرٹیریٹ معلومات کے حصول کے سلسلے میں شہریوں کی طرف سے جمع کرائی جانے والی درخواستوں کو مسترد کر دیتا ہے۔

کولیشن فار رائٹ ٹو انفارمیشن (سی آر ٹی آئی) اس مجوزہ ترمیم کی پرزور مخالفت کرتا ہے جو آئین، شہریوں کے جمہوری حقوق اور آئین کے آرٹیکل 19 اے کے منافی ہے۔ سی آر ٹی آئی نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ترمیم کو مسترد کریں اور اس کے بجائے اس ایکٹ کو مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کریں اور عوامی مفاد اور طرزحکمرانی کے امور میں اسے بہتر شفافیت اور عوامی جمہوری احتساب کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنائیں۔ پریس کانفرنس کے بعد کولیشن کے ارکان نے "آر ٹی آئی” پیس واک کا بھی اہتمام کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button