انسانی حقوقخبریں

ملاکنڈ: درگئی کے رام مندر میں پہلی مرتبہ دیوالی منائی گئی

ملاکنڈ کے علاقے درگئی میں قائم رام مندر میں پہلی دفعہ دیوالی منائی گئی جس میں درگئی سمیت نوشہرہ اور مردان میں مکین ہندو برادری کے افراد نے شرکت کی۔ دیوالی کے موقع چراغاں کے علاوہ آتش بازی اور خصوصی عبادت کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

رام مندر کے پنڈت پریم ناتھ جو درگئی میں مقیم  ہندو برادری کے 18 خاندانوں کے سربراہ بھی ہے کہتے ہے کہ یہاں چھٹی دفعہ ہماری مذہبی رسومات ہورہی ہیں جبکہ پہلی دفعہ دیوالی ہو رہی ہے۔ اس دیوالی میں بہت کم لوگ شرکت کر رہے ہیں۔ درگئی میں مقیم 18 خاندانوں کے علاوہ کچھ لوگ نوشہرہ اور کچھ مردان سے آئے ہوئے ہیں۔ پریم ناتھ کے مطابق ایم پی پیر مصویر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا تھی لیکن مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔

درگئی میں منعقدہ دیوالی کی تقریب میں لمبا ویڑا مندر نوشہرہ کے چیئرمین سندیش کمار بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ چھٹی دفعہ یہ یہاں مذہبی رسومات کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا ہے لیکن  کبھی کسی مہمان خصوصی نے تقریب میں شرکت نہیں۔ امید ہے اگلی دفعہ جو بھی پروگرام ہوگا امید ہے مہمان خصوصی ضرور آئیگا۔ سندیش کمار کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں ہندو برادری کی فلاح کےلئے سنجیدہ اقدامات ہورہے ہیں۔ ہمیں مذہبی رسومات کی ادائیگی میں کسی قسم کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

مردان میں اقلیتی نشست پر منتخب ہوئے سابق ضلعی کونسلر نریش کمار نے اس موقع پر "دی رپورٹرز” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اب رام مندر درگئی دیوالی کی تقریب کا انعقاد خوش آئند ہے مگر ابھی بہت کام ہونا ہے۔

نریش کمار کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ملازمتوں میں اقلیتوں کیلئے جاب کوٹہ پانچ فیصد کردیا، اسی طرح سکول کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی کوٹہ بڑھانے کیلئے  وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرینگے۔

درگئی میں قائم رام مندر کے پنڈت پریم ناتھ نے "دی رپورٹرز” کو بتایا کہ درگئی میں ہندو براردی کے صرف 18 خاندان مقیم ہیں، ماضی میں یہ خاندان مردان اور نوشہرہ میں ہونے والی دیوالی کی تقریبات میں شریک ہوتے تھے، اس سال مقامی سماجی کارکنوں کے تعاون سے رام مندر درگئی میں دیوالی منائی گئی۔

انہوں نے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مندر میں ایک ہال، چار دیواری، واش رومز، پانی کی ٹینکی سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قلت ہے جس کے باعث مذہبی تہواروں میں مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان مسائل کے حل کےلئے اپنا کردار ادا کرے۔

تقریب میں موجود حکمران جماعت تحریک انصاف کے نمائندوں عزیز اور عامر نے مذکورہ مسائل ایم پی اے پیر مصور کے علم میں لانے اور ان کے حل کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

دیوالی کی تقریب کے انتظامات میں اہم کردار ادا کرنے والے سماجی کارکن حمد نواز کا کہنا ہے کہ درگئی میں پہلی مرتبہ دیوالی منائی گئی ہے، تقریب کے انتظامات میں ہندو برادری کے ساتھ ساتھ مقامی افراد نے بھی بھرپور کردار ادا کرکے مذہبی رواداری کی نئی تاریخ رقم کردی ہے۔

حمد نواز نے مزید بتایا کہ دیوالی کی تقریب کے انعقاد کےلئے کوششوں کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ درگئی میں مقیم ہندو خاندان محفوظ ہیں اور وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button