انسانی حقوقخبریں

کورونا کے دوران خدمات سرانجام دینے والے ریسکیو اہلکاروں کی روداد

"دن بھر کرونا پازیٹیوں مریضوں کو اسپتال شفٹ کرتا رہتا۔ رات کو گھر جاتا تو والدین کو کہتا کہ میری ڈیوٹی نہیں تھی آج باقی دوست ڈیوٹی پر تھے،  بچوں سے بھی ڈر ڈر کر ملتا تھا لیکن  وباء کے دوران تب چھٹی کی جب خود کرونا سے متاثر ہوا”۔  جتنے لوگ کرونا سے ڈرتے تھے اتنے ہم سے بھی ڈرتے تھے کیونکہ ہم ہی وہ لوگ تھے جنکے ذمہ دور دراز علاقوں سے لوگوں کو اسپتال شفٹ کرنا اور وائرس سے انتقال کرنے والوں کی لاشیں آبائی علاقوں میں پہنچانا تھا۔ یہ کہانی ریسکیو 1122  میں ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن کی زمہ داریاں نبھانے والے ظاہر شاہ کی ہے۔

ظاہر شاہ ریسکیو 1122کے  ان بانی اہلکاروں میں سے ایک  ہے جنہوں نے 2010 سے پشاور کے ہر چھوٹے بڑے واقعے کو قریب سے دیکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ دس سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ ہماری گاڑیاں دیکھ کر ہم سے دور بھاگنے لگتے تھے۔ وباء کے ابتدائی ایام میں سب ایک دوسرے سے ڈر رہے تھے لوگ کرونا کے مریضوں  اور اس وائرس سے مرنے والوں کے لاشوں کے قریب بھی جانا نہیں چاہتے تھے۔

اپنے اوپر گزرنے والے حالات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "ایک دفعہ اطلاع ملی کہ افغان کالونی میں کرونا پازیٹیو مریض ہے۔ موقع پر پہنچے تو جتنے بھی لوگ  اس گھر کے آس پاس جمع ہوگئے تھے سب ادھر ادھر بھاگ گئے۔ خوف اتنا تھا کہ لوگ سمجھتے تھے یہ لوگ ہر وقت ان مریضوں کے ساتھ رہتے ہیں کہی ان سے ہمیں کرونا نہ لگیں”۔ باہر کے لوگ تو دور کی بات اپنے بھی ہاتھ ملانے کو تیار نہیں تھے۔

سترہ مارچ   سے چھ دسمبر تک ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے خیبر پختوںخوا کے  بائیس اضلاع میں دو ہزار 400 سے زائد مریضوں کو مختلف اسپتالوں یا کورنٹائن سنٹروں کو منتقل کئے ہیں۔ ان میں کرونا پازیٹیو اور مشکوک مریض شامل تھے جبکہ بعض مریضوں کو دیگر صوبوں کو بھی منتقل کئے ہیں۔

وباء کے پہلے چار ماہ میں اسپتالوں میں کرونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کی لاشیں منتقل کرنے کی زمہ داری بھی ریسکیو کی تھی اور زیادہ تر لاشیں تمام  تر ایس او پیز  کے تحت منتقل کئے گئے۔ بعد میں جب خوف کم ہونے لگا تو ایدھی اور دوسرے ایمبولینسز نے بھی مریضوں کو منتقل کرنا شروع کیا۔

ریسکیو 1122 کا قیام 2010 میں ہوا تھا۔ تب سے پشاور سمیت دیگر شہروں میں ہر قسم کی ایمرجنسی میں ریسکیو کے اہلکار پیش ہیں۔ وباء کے دوران نو ماہ میں ریسکیو اہلکاروں 703 مریضوں کو پولیس سروسز اسپتال پشاور پہنچائے۔ یہ صوبے کا پہلا اسپتال تھا جو کرونا کیلئے مختص کیا گیا تھا۔ چترال میں 333، خیبر میں 195، نوشہرہ میں 165 مشکوک اور کنفرم کرونا مریضوں کو ریسکیو اہکاروں نے اسپتال منتقل کیا۔ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ریسکیو اہکاروں نے سینکڑوں  کرونا متاثرین کو کورنٹائن سنٹرز یا اسپتال پہنچانے میں مدد کی۔ ریسکیو 1122 اس وقت خیبر پختوںخوا کے 22 اضلاع میں کام کررہی ہے۔

ظاہر شاہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پشاور میں بڑے بڑے سانحوں کے دوران ڈیوٹی سرانجام دی  ہے شائد یہی وجہ تھی کہ  کرونا وبا کے دوران پر عزم رہا اور کسی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ ہمیں اکثر کالیں آتی ہیں کہ اگ لگی، گھر کی چھت گرگئی ہے یا ایکسیڈنٹ ہوا ہے لیکن وبا کے دوران اس قسم کے کالز بھی سننے کو ملے، پڑوس میں ایک شخص باہر سے ایا ہے پہنچ جاو۔  پہلے جب باہر سے کوئی بندہ ملک کو واپس آتا تو دوست اور رشتہ دار ملنے جاتے تھے لیکن کرونا وباء کے ابتدائی دنوں میں لوگ ہمیں کال کرتے کہ اس کے پڑوس میں بندہ باہر سے آیا ہے آکر چیک کرلیں۔ اگر چہ یہ کام ضلعی انتظامیہ کا تھا۔

ریسکیو 1122 میں بطور ایمبولینس ڈرائیور کام کرنے والے ریاض خان کہتے ہیں کہ انہوں ایک ایک ایمبولینس میں پانچ پانچ لاشیں اسپتال منتقل کئے تھے لیکن اتنا خوف نہیں تھا جو کرونا میں دیکھا ہے۔ ڈیوٹی سے واپس گھر جاتے تو ڈرتے تھے کہ کہی وائرس گھر والوں کو منتقل نہ ہوجائے۔ بعض علاقوں میں لوگ ریسکیو اپریشن سے اتنے ڈر جاتے کہ لاشیں ہمیں خود دفنانا پڑتا۔

فقیر اباد کے رہائشی اسد علی شاہ  کہتے ہیں کہ اپریل میں  جہاں پورے شہر میں لاک ڈاون نافظ تھا ہر طرف خاموشی تھی اسپتال ویران پڑے تھے۔ اسی دوران انکی طبیعت خراب ہوگئی۔ کرونا ٹیسٹ کیلئے سواب دیکر واپس گھر میں خود کو قرنطینہ کیا۔ لیکن جب تیسرے دن رزلٹ آیا تو گھر میں کہرام مچ گیا۔ کیونکہ سب کو پتہ چلا کہ وہ کرونا پازیٹیو تھا قریبی عزیز بھی دور ہونے لگے اور مجھے ایسا لگا کہ اب اس وائرس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ شام تک سانس لینے کا مسلئہ شروع ہو تو ریسکیو کو کال کرکے بلایا۔ دس منٹ بعد 1122 کی گاڑی گھر کےسامنے کھڑی تھی۔ اہلکاروں نے مجھے تسلی دی۔ ہاتھوں میں اٹھا کر ایمبولینس میں لیٹا دیا اور اکسیجن ماسک لگا کراسپتال منتقل کیاگیا۔

اسد کہتے ہیں ریسکیو اہلکار نہ ہوتے تو اب زندہ نہیں رہتے کیونکہ اس وقت گھر میں جو ماحول پیدا ہوگئی تھی اس سے اگر سانس کا مسلئہ نہ ہوتا تو ہارٹ اٹیک ضرور ہوتا۔

ریسکیو مڈیکل ٹیکنشن ظاہر شاہ  کی خدمات صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے بھی سراہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اسلام اباد بلا کر انہیں کرونا بیسٹ پرفارمر ایوارڈ سے نوازاہ۔

کرونا وبا  کے دوران خیبر پختونخوا میں ریسکیو 1122 کے پچاس سے زائد  افراد وائرس کے شکار ہوگئے۔ جو کے اب صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان متاثرہ افراد میں ڈرائورز، میڈیکل ٹیکنیشنز سمیت دیگر ملازمین شامل تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button