بلاگ

گوادر امریکی جیولیجیکل سروے سے اقتصادی راہداری تک

پاکستان  کی گوادر میں دلچسپی  اْسوقت بڑھ گئی  جب 1954 کے ایک امریکی جیولیجیکل سروے نے ایک بندرگاہ کے طور پر اس کی نشاندہی کی۔ اس وقت  گوادر  سلطنت عمان کا حصہ تھا۔  گوادر دنیا کی خبر وں میں ایک بار پھرزینت اس وقت بنا جب تقریباً 2002 میں صدر جنرل( ر) پرویز مشرف نے  سنگاپور کے دورے کے دوران ایک کمپنی ( پورٹ آف سنگاپور اتھاری ایس اے)  کسیاتھ گودار پورٹ کی تعمیر کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا  اوریوں 2007 میں گوادر پورٹ کا پہلا فیز مکمل ہوگیا۔

 سال 2013 پاکستان کے  وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے چین کیساتھ چین پاکستان اقتصادی رہداری (سی پیک) کے نام سے ایک میگا تجاری معاہدہ پر دستخط کیے ۔  دونوں ممالک کے مابین اس معاہدے کے بعد گوادر بندرگاہ کو چینی کمپی برائے بندرگاہ “چین اورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی ” کے آپریشن میں دیدیا گیا ۔ اسوقت گوادر بندرگاہ  کا کل رقبہ  2،292 ایکڑ  فری  ٹرید پر مشتمل تھا۔

گوادر اور بین الاقوامی سیاست:

چین پاکستان اقتصادی رہدارمعاہدے نے گودارپور ٹ کو عالمی طاقتوں کی نظرمیں چبنے والی ڈویلپمنٹ  بنا دیا۔

یہی وجہ تھی کہ جب پاکستان نے چین کیساتھ  ( سی پیک) معاہدہ کے تحت تجارتی سرگرمیاں بڑھانے کی شروعات کی تو امریکہ نے بھی ناراضگی کا ا ظہار کیا

چین پاکستان  کے اس معاہدے نے ایران اور انڈیا کی تجاری سرگرمیوں کو سست روی کا شکار کرنا شروع کیا اور ایران نے انڈیا کے ساتھ اپنے معاہدہ ختم کرکہ چین کیساتھ مزید  تجارتی سرگرمیاں جاری کرنے کا اعلان کیا۔

 دوسری طرف امریکہ نے بھی یہ محسوس کرلیا کہ  اس خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر وسوخ  سے  انکے سیاسی حریف ایران کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

تاریخی پسِ منظر:

مورخین لکھتے ہیں کہ تقسیم ہند سے پہلے جب بلوچ ایک خودمختار ریاست کے مالک تھے اور اس خطے کی دوسری ریاستوں کے ساتھ بلوچ ریاست کے تجارتی اور سیاسی تعلقات تھے۔ مسقط عمان کے حکمرانوں کے بلوچ حکمرانوں کے ساتھ قدیم تعلقات تھے۔مسقط عمان کے حاکم سعید سلطان بن احمد کو جب اندرونی بغاوت کا سامنا ہوا تھا تو پناہ کی خاطر بلوچ حکمران میر نصیر خان کے پاس آگئے تھے۔

 سال 1783ء میں میر نصیر خان نے مسقط کے شہزادے کو گوادر صرف بطور پناہ گاہ دیا تھا تاکہ وہ یہاں رہ سکے۔1792ء میں عمانی شہزادہ دوبارہ تخت مسقط کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو گوادر کو سلطنت عمان کا حصہ بنا دیا اور گوادر کے بلوچوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرنا شروع کیا اور آج بھی بلوچ بڑی تعداد میں اس فوج کا حصہ ہیں۔ بلوچوں کی ایک بہت بڑی آبادی سلطنت عمان میں آباد ہیں۔

گوادر پاکستان کا حصہ کیسے بنا۔۔!!

 گوادر کو 1958ء پاکستانی وزیراعظم فیروز خان نون نے  پارلیمانی اجلاس میں تاریخ کا حصہ بنایا ۔جہاں انہوں نے یہ اعلان کیا کہ عمان کے سلطان سعید بن  یمور نے گوادر جذبہ خیر سگالی کے تحت بلا معاوضہ پاکستان  کے صوبہ بلوچستان کے حوالے کیا ہے جو نسلی، لسانی،جغرافیائی، تاریخی اور فطری طور پاکستان (صوبہ بلوچستان) کا حصہ تھا

آج  گوداردنیا کی نظر میں ایک ایسی چبتی کیل ہے جس کے خاتمے کے لیے دنیا کی بہت سے ممالک سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔

گوادر کی سیکورٹی اور مقامی لوگوں کے خدشات:

اسی ہی ایک صورتحال چند روز قبل سوشل میڈیا پر  دیکھنے کو ملی جب بلوچستان کے باسیوں نے  گودار کی سیکورٹی کے لیے لگائی گی  باڑ پر اپنے تحفظات کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا۔

مگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سماجی حلقوں نے اسے گوادر کو بلوچستان سے الگ کرکے ایک کنٹونمنٹ بورڈ میں تبدیل کرنے کی شروعات قرار دیا ہے۔

12 دسمبر کو پاکستان میں گوادر کی 62 سالگرہ منانے کے بعد کے بعد یہ موضوع بھی سوشل میڈیا پر زیربحث رہا کہ  گوادر  شہر کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر باڑ  لگا کر الگ کیا جارہا ہے۔ سیاسی ، سول سوسائٹی اور صحافتی حلقوں کا  خیال ہے کہ یہ عمل پاکستان کے آئین  میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق شہری آزادی کی خلاف ورزی  ہے ۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر  پر صارفین نے اپنی رائی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس عمل  سے شہریوں کا اپنے عزیز و اکارب ، رشتہ داروں کیساتھ زمینی راستہ منقطع ہوسکتا ہے اور ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے کا فاصلہ بڑھ جائے گا جس سے شہریوں کے نقل و عمل دوسرے علاقے میں جانے کی آزادی متاثر ہوسکتی ہے۔

مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ  گوادر  شہر کے اطراف  میں باڑ لگانے کا  آغاز  پشکان چیک پوسٹ سے لیکر ، مڑانی  سے ہوتا ہوا  ” وشیں ڈور”   کوسٹل ہائی وے گوادر، جیونی زیرو پوئنٹ  اور پشکان آکاڑہ پل تک پہنچے گا۔ اگر  باڑ کا یہ نقشہ مکمل ہوگیا تو  گوادر سے محلقہ علاقے جو ابھی تک 5، سے 6  کلومیٹر  کے فاصلے پر ہیں۔پھر یہی فاصلہ 40 ،50 کلومیٹرز تک بڑھ سکتا ہے اور  قریبی علاقوں کے مکینوں کا شہر میں داخل ہونے کے لیے طویل مسافت طے کرنا پڑ ے گی۔

جہاں تک گودار کو مکمل طور پر  سیل کرنے کے حوالے سے حکومتی موقف جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پورٹ کے کچھ زونز کی سیکورٹی کے پیش نظر باڑ لگائی جارہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button