بلاگ

ڈاکٹر جے، ٹی کینٹ ایک عظیم معالج

    تحریر: ڈاکٹر وقارربانی

31مارچ 1849؁ء کو ووڈھل نیویارک میں اسٹیون کینٹ اور ان کی اہلیہ کیرولن ٹائلر کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس کا نام جیمز ٹائلر کینٹ رکھا گیا، انہوں نے ابتدائی تعلیم نیویارک کے فرینکلن اکیڈمی آف پرٹسبرگ اور ووڈھل اکیڈمی سے حاصل کی جبکہ بعد میں انہوں نے 1868؁ء گریجویشن اور 1870؁ء کو ماسٹرآف میڈیسن کی ڈگری میڈیسن یونیورسٹی ہیملٹن نیویارک سے حاصل کی جسے اب کولیگیٹ یونیورسٹی سے جانا جاتا ہے اس کے بعد کینٹ نے سنہائٹی، اوہائیو کے انسٹی ٹیوٹ آف ایکلیکٹیک میڈیسن میں بھی تعلیم حاصل کی اور میڈیکل پریکٹس شروع کی اور 28سال کی عمر میں امریکی کالج سینٹ لوئس میں اناٹومی کے پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے جو اپنے وقت کے بہترین اور مشہور معالج قرار پائے 1874؁ٗ ؁ء میں پہلی شادی کی لیکن بدقسمتی سے چند سال بعد ہی اس کی شریک حیات اس دنیا ئےفانی سے رخصت ہوئی اس لیے بعد میں دوسری شادی لوسی سے کی ۔ لوسی سے وہ بہت پیار کرتے تھے۔ ایک دن لوسی اچانک شدید بیمار ہوگئی۔اس کے لیے انھوں نے  انگریزی ادویات اور دوسرے طریقہ علاج آزمائے لیکن کوئی بھی طریقہ کارگر ثابت نہ ہوا جس سے لوسی کی صحت یابی ممکن ہوسکے۔ لوسی نے ہومیوپیتھک ڈاکٹر رچرڈ پھیلن سے مشورہ کرنے کا کہا جوکہ کینٹ کے لیے بیشک مشکل فیصلہ تھا لیکن انہوں نے بیوی کے کہنے پر ڈاکٹر رچرڈ پھیلن کو بلایا، انہوں نے مریض کے بارے دریافت کیا، ادویات منتخب ہوئیں اور چند دن میں لوسی بھلی چنگی  ہوگئی۔ اس واقعے کا ڈاکٹر کینٹ پر بہت گہرا اثر ہوا  جس کی بعد میں  ہومیوپیتھی کی تعلیم حاصل کرکے ہومیوپیتھک ڈاکٹر بنے اور نیشنل میڈیکل ایسوسی ایشن (امریکہ) سے اپنی ممبرشپ ختم کرکے باقاعدہ ہومیوپیتھی کی تعلیم وپریکٹس شروع کرنے لگے۔

یہی وہ وقت تھا جب وہ مکمل طور پر ہومیوپیتھک میڈیکل سسٹم  کے لیے کام کرنے لگے اوردنیا کے سامنے ہومیوپیتھی کو ایک نئے انداز سے پیش کرنا شروع کیا،1881؁ء کو مسوری ہومیوپیتھک میڈیکل کالج میں بطور پروفیسر آف سرجری اپنی خدمات انجام دیں، جبکہ امریکہ میں موجود تمام ہومیوپیتھی لٹریچر کو بغور پڑھنا شروع کیا اس لیے  بہت جلد ہی امریکہ میں خوب نام کمایا۔1890میں،کینٹ،فلاڈیلفیا کے پوسٹ گریجویٹ ہومیوپیتھک میڈیکل سکول میں ڈین آف پروفیسرز مقرر ہوئے اور 1899؁ء تک اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔اور اس کے بعد یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا انہوں نے بے شمار میڈیکل کالجز میں ہومیوپیتھی آگاہی میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔

1896 ؁ٗ؁ء کو کلارالوئس جو کہ بنیادی طور پر ایلوپیتھک ڈاکٹرتھی لیکن بعد میں ہومیوپیتھک ڈاکٹر بنی تھی، ان کے علاج کے لیے ڈاکٹر کینٹ کو بلایا گیا اور ان کے شفایاب ہونے کے بعد انہوں نےباہمی رضامندی سے  شادی کرلی اور ڈاکٹر کینٹ کے ساتھ ان کے مختلف کام مکمل کرنے میں بہت مدد کی جن میں ہومیوپیتھی فلسفہ، میٹریا میڈیکا اور ریپرٹری کے کام کو آج تک سراہا جارہا ہے         1897؁ء میں کینٹ نے ریپرٹری آف میٹریا میڈیکا شائع کیا جس سے آج تک ہومیوپیتھک میڈیکل سسٹم فائدہ اُٹھارہا ہے۔ وہ بے شمار کتابوں کے خالق ہیں جو کہ بہت ساری زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔انہوں نے اپنی پوری زندگی ہومیوپیتھک میڈیکل سسٹم کی ترقی وترویج کے لیے کام کیا اور 1916؁ء میں ریپرٹری کا تیسرا ایڈیشن شائع کرنے کے بعد اپنے طلباء کے اصرار پر چھٹی لے کر مانٹانا کے اسٹیو ینس ول چلے گئے جہاں چند دن طبیعت ناساز ہونے کے بعد 16جون 1916؁ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button