بلاگ

بلوچستان، ملا لیاقت غریب مریضوں کےلئے مسیحا

تحریر: گہرام اسلم بلوچ

دنیا بھر  میں ایسے گُم نام انسان دوست بےشمار ہوں گے جو انسانی ہمدردری کی خاطر ہر ضرورت مند کے لیے پُراسرار طور پر کچھ نا کچھ کر رہے ہیں۔ یہ صرف وہ جانتے ہیں کہ جس پہ اُن کا عقیدہ اور یقین ہے وہ یقیناً ان کے اس انسانی ہمدردی کے عمل سے راضی ہو گا۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ تربت کے علاقے  مند سے تعلق رکھنے والے "مُلّا لیاقت ولی” اور آدم کی بیٹی "فاطمہ آدم” ان دنوں اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر کچھ ایسے ہی فلاحی کاموں میں مصروفِ عمل ہیں جو خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ اس کام کو سرانجام دینے کے لیے انہوں نے "احساس” کے نام سے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی ہے  جس کا مقصد صرف اور صرف اُن ضرورت مند اور بیمار خاندانوں کی مالی و اخلاقی مدد کرنا ہے جو اپنی مالی مشکلات کی وجہ بسترِ مرگ پر پڑے ہیں لیکن خود داری کی بنا پر کسی سے بھی اپنی مالی مجبوریاں بیان نہیں کرتے۔

ایسے میں مُلّا لیاقت ولی اپنی رضاکار ٹیم کے ساتھ ان تنگ داست و کمزور افراد کے لیے مسیحا بن کر آیا ہے۔

"احساس” کے نام سے ایک ادارہ  ملک کے وزیراعظم کی سرپرستی سے چل رہا ہے۔ اس سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا یہ ایک الگ بحث ہے مگر آج ہم مُلّا لیاقت، کفا دوست اور فاطمہ آدم کی سربرائی میں قائم احساس فلاحی ادارے کے بارے میں اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ وہ اس وقت سینکڑوں ضرورت مند افراد کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔

ان دنوں مختلف فلاحی تنظیموں کو اپنے ارد گرد کام کرتا ہوا دیکھ کر ذہن میں ایک ہی سوال جنم لیتا ہے کہ

"فلاحی ریاست کی موجودگی کے باوجود ان اداروں کی ضرورت آخر کیونکر پیش آرہی ہے؟

"احساس” کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ

ہمارا بنیادی مقصد اُن غریب لوگوں کی مدد کرنا ہے جن کا کوئی سہارا نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے سبب انہیں بروقت اپنے معالج تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ ضروت مند مریضوں کے لیے جو دور دراز دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے اپنا علاج نہیں کروا سکتے ہیں۔ ان کے لیے خود سے ہسپتالوں تک پہنچنا بھی دشوار ہے۔ ایسے مستحق مریضوں کے مکمل علاج معالجے اور سفر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمارا ادارہ ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔ ایسے نادار مریضوں کے لیے ہم تربت اور کراچی میں ان کی رہائش اور مفت علاج کی سہولیات کا انتظام کر چکے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

صوبہ بلوچستان کے علاقے مکران و تربت کے لوگوں کا ذریعہ معاش بارڈر پر انحصار کرنس ہے اور اس وقت بارڈر کی بندش کی وجہ  سے کورونا ڈیلٹا کے دنوں میں ایک معاشی بحران بھی جنم لے چکا ہے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں بھی "احساس” کے ساتھیوں کو اپنے غریب لوگوں کا "احساس” ہے۔ وہ اس وقت اُن لوگوں کو راشن پہنچا رہے ہیں جن کے گھروں کا چولہا بجھ چکا ہے۔

احساس کے رضاکاروں کے مطابق آئندہ جمعے سے تربت سول ہسپتال میں جتنے بھی مریض داخل ہیں اور ان کی نگہداشت کے لیے دُور دراز سے آئے ہوئے افراد کے لیے بھی دو وقت کے مفت دسترخوان کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ایسے نیک کام کرنے والے گُمنام ہیروز کی ہمیں ہر طرح سے معاونت کرنی چاہیے۔ جذبہ خیرسگالی کے تحت ہمیں بھی آگے بڑھ کر ان اداروں کا ساتھ دینا چاہیے۔

"احساس” کی ٹیم اپنے تعلقات اور وسائل سے مستحقین کی ہر ممکن مدد کے دائرے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے انتہائی پُرامید ہے۔

حال ہی میں کراچی میں زیرِتعمیر ایک نجی ہسپتال کے ساتھ "احساس” کا میمورینڈم دستخط ہوا ہے جس کے مطابق وہ نجی ہسپتال روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان سے "احساس” کے ریفرنس سے آئے ہوئے مریضوں کے لیے دو بستروں کی مفت سہولت کے ساتھ ساتھ مریضوں کے میڈیکل ٹیسٹ اور ادویات پر آدھا فیصد ڈسکاؤنٹ بھی دے گا!!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button