انسانی حقوق

سوات : قدیمی آثار کو رپورٹ کرنے پرمقامی صحافیوں کو مشکلات کا سامنا

گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا بھر میں آثار قدیمہ پر تحقیق جاری ہے ، دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بڑی تعداد میں آثار قدیمہ موجود ہے اور کچھ حال ہی میں دریافت ہوئے ہیں ان اثار قدیمہ پر مختلف ریسرچرز اور محققین کام کررہے ہیں جو کہ ان کے تاریخ اور اطراف پر اپنے اپنے ریسرچ کرتے ہیں اس طرح ان آثار قدیمہ کو دنیا کی عوام تک پہنچانے کے لئے یقینا میڈیا یا ذرائع ابلاغ کا کردار انتہائی ضروری ہے اور میڈیا سے وابسطہ لوگ اس پر مزید تحقیق بھی کرتے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ سوات میں بھی آثار قدیمہ موجود ہےجن میں بدھ مت کے آثار نمایاں ہے ۔ ان پر گزشتہ کئی سالوں سے محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا اور سوات کے صحافی کام کررہے ہیں اور آثار قدیمہ کو دنیا بھر میں بہتر انداز سے پیش کرتے ہیں تاہم اس حوالےسے رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو بہت سی مشکلات بھی  درپیش ہوتی  ہیں

گزشتہ بارہ سال سے صحافت سے منسلک اور پاکستان کی ثقافتی ورثہ کے تحفظ اور ترقی کے لئے سرگرم عمل صحافی فضل خالق آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھتا ہے اور وہ اس پر حوالے سے مختلف تحقیق بھی کر چکا ہے انہوں نے کہا کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں سو سے زائد سائٹس پر کام کرچکا ہوں اور کئی مشکلات کا سامنا کیا ہے، اکثر معاشرے میں عام لوگ کہتے ہیں کہ یہ بدھ مت اور ہندو مت کے آثار ہیں اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اس کے تحفظ پر کام نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ اس میں گنا ہ  ہے، لوگوں کا خیال ہے کہ ان آثار کو مٹانا چاہئے۔

فضل کے مطابق یہاں آرکیالوجی کے سمگلر بھی زیادہ ہیں جو نہیں چاہتے کہ ان آثار کا تحفظ ہو۔ یہ سمگلر بھی بہت مخالفت کرتے ہیں۔ پھرسوات کے عسکریت پسند بھی آثار قدیمہ کے مخالف تھے اور وہ صحافیوں کو تنبہہ دیتے تھے کہ ان آثار کی حفاظت چھوڑ دیں۔

فضل خالق نے کہا کہ عسکریت پسندوں اور بعض مذہبی رہنماوں نے مجھے ذاتی طور پر بھی منع کیا ہے کہ بدھ مت یا پرانے آثار پر کام نہ کریں اور نہ ہی اسکی حفاظت کے لئے میڈیا پر کام کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی دفعہ مقامی لوگوں اور مذہبی رہنماوں نے بھی مخالفت کی ہے مگر میں نے انہیں سمجھایا ہے کہ یہ اس علاقے اور ملک کا اہم ثقافتی ورثہ اور تاریخ ہے اس لئے اس کی تحفظ آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے۔

سرکاری محکمہ کے تعاون کے حوالے سے فضل نے کہا کہ زیادہ تر سرکاری اہلکار اور محکمہ کے آفیسرز کوریج میں مدد دیتے ہیں اور متعلقہ محکمہ صرف ہمیں انٹرویو دینے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ اہم تاریخی ورثہ ہے جو کسی ملک یا علاقے کی ماضی کی مکمل داستان سناتا ہے، یہ ہمیں ماضی میں اقوام کی کامیبابیوں اور ترقی کا حال سناتا ہے تو دوسری طرف ان سے جو غلطیاں ہوتی ہیں ان کا بھی تفصیل  سے پتہ چلتا ہے، ماضی میں مختلف اقوام کے رہن سہن، طور طریقوں،خوراک اور ان کی سماجی اور اقتصادی ترقی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ لہذا آثار قدیہمہ کے آثار اہم انتہائی اہمیت کے حامل نشانیاں ہیں جس کی تحفظ کے لئے میڈیا کوریج انتہائی ضروری ہے تا کہ نہ صرف حکومت پر دباو پڑھ سکے بلکہ عام لوگوں میں اس کی اہمیت کی ترویج بھی ہو سکے۔

سوات سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی نیاز احمد خان جو گزشتہ بیس سالوں سے صحافت سے وابسطہ ہے انہوں نے کہا کہ سوات میں بہت سارے آثار قدیمہ ہیں ان پر تفصیلی رپورٹ، ڈاکومنٹری اور شاٹ روپوٹس بنائے ہیں ان میں بریکوٹ بازیرہ، اباصیب چینہ، املوک درہ، شنگر دار سٹوپا، غالیگی بت، مینگورہ میں گلکدہ، سیدوشریف سٹوپا، منگلور بدھا، وغیرہ پر رپورٹس بنائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کے طرف سے اکثر مشکلات پیش آتے ہے وہ اجازت مشکل سے دیتے ہیں، اس کے علاوہ 2008 میں طالبان کے طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ بتوں کو توڑنے کی کوشش کرتے  تھے۔

نیاز نے کہا کہ بالکل طالبان کے طرف سے شدید مخالفت سامنے آئی ہے انہوں نے جب منگلور میں ایشاء کا سب سے بڑا مجسمہ بارود سے اڑانے کی کوشش کی تو اس کی کوریج سے زبردستی ہمیں روک لیا گیا اور مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

 

متعلقہ سرکاری محکمہ یا حکومتی تعاون کے  حوالے سے نیاز نے کہا کہ تعاون بہت کم کیا جاتاہے جب محکمہ آثار قدیمہ کی کارکردگی کی رپورٹ دیتے ہیں تو پھر تعاون کرتے ہیں مگر جس جگہ اس کی زبوحالی کا زکر کرتے ہیں ان کی تباہی کی روپوٹنگ کرتے ہیں تو پھر مشکلات بنائے جاتے ہیں۔

نیاز کے مطابق زیادہ تر باہر سے آئے ہوئے سیاح یا منگ جب آتے ہیں تو وہ مدد کرتے ہیں اور ان جگہوں کو کھول دیا جاتا ہیں معلومات بھی دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آثار قدیمہ کی اہمیت پر رپوٹنگ کی اشد ضروت ہے پورے خیبر پختونخوا اور بلخصوص سوات میں انتہائی قیمتی آثار قدیمہ ہے جوکہ انے والے نسلوں کے لے محفوظ کرنا بہت اہم ہے اس کے ساتھ ان آثار قدیمہ سے کلچر ٹورزیم، مذہبی ٹورزیم، باہر ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات کے بہت سارے مواقع ہے اس کے ساتھ ارکیالوجی کے طلباء کے لئے اس میں بہت سارے مواقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک سے جو سیاح ان آثار کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں وہ سوات، خٰیبرپختونخوا اور پاکستان کی کلچر، مصنوعات، لوگوں کے رہن سہن کے بارے میں بہت سارے معلومات لیکر جاتے ہیں جوکہ علاقے کے لئے انتہائی مفید ہے مختصر یہ کہ آثارقدیمہ کی تحفظ کے لئے اس کی رپوٹنگ انتہائی ضروری ہے۔

 

انچارج سوات آرکیالوجیکل سائٹس نیاز خان جو کہ محکمہ آرکیالوجی میں گزشتہ کئی سالوں سے نوکری پرہے اور خود بھی آرکیالوجی میں ذاتی دلچسپی لیتا ہے انہوں نے کہا کہ سوات اثار قدیمہ سے مالامال علاقہ ہے اورتقریبا 200 کے قریب سوات میں آثار موجود ہے انہوں نے کہا کہ جب بھی آثار قدیمہ کی نیا جگہ دریافت ہوتی ہے تو ہم سب سے پہلے میڈیا کو کوریج کیلئے بلاتے ہیں اور ان سے بھرپور تعاون بھی کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میڈیا مثبت انداز سے کوریج کرتا ہے اور وہ اس حوالے سے عوام میں شعور بھی پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا سائٹ کے حوالے سے مقامی لوگوں اور ساتھ ہی اندرون ملک اور باہرسے آنے والے سیاحوں میں شعور پھیلاتے ہیں تاکہ سائٹس کو محفوظ رکھا جا سکے اورساتھ ہی متعلقہ سائٹ کی تاریخ سے بھی آگاہ کیا جا سکے اور ماضی کے مقابلے میں اب  میڈیا مقامی علاقوں کے ورثے کے فروغ کے لیے کافی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

میڈیا کوریج کے حوالے سے خان نے بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قدیم مقامات کی ثقافتی اقدار کے فروغ کے لیے ادارے کے پاس میڈیا ٹیمیں ہیں ، ہر سیزن میں خیبر پختونخوا کے عجائب گھروں میں اور ساتھ ہی کے پی کے متعلقہ شعبہ کی یونیورسٹیوں میں مختلف ورکشاپس ہوتی ہیں جن میں ہم خود بھی شرکت کرتے ہیں۔

مقامی میڈیا کے حوالے سے خان نے بتایا کہ میڈیا علاقے کی مقامی ثقافت اور ورثے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا اصولوں اور اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔

میڈیا قوم میں معلومات، خواندگی کو فروغ دے کر لوگوں کے دماغ اور دل کے ارتقاء اور انقلاب کا باعث بن سکتا ہے اور ہماری بھی یہ زمہ داریاں ہے کہ میڈیا کے نمایندوں کے ساتھ ہر لیول پر تعاون کیا جا سکے اور جتنا ہو سکتا ہے ان کو سیکیورٹی بھی فراہم کریں۔

سوات میں شدت پسندی کے دوران طالبان نے درجنوں کے تعداد میں اثار قدیمہ کو نقصانات پہنچایئں جن میں بعض بدھا کے چہرے بھی بگاڑے گئے تھے اس حوالے سے ڈسٹرکٹ سوات پولیس کے ڈیٹا کے مطابق 2020  سے 2021 کے دوران سوات نوادرات کے حوالے سے صرف ایک ہی ایف ائی ار نامعلوم افراد کے خلاف غیر قانونی کھدائی کے حوالے سے درج ہوا ہے کیونکہ سوات میں شدت پسندی کے دوران کسی کی بھی جرات نہیں تھی کہ کسی کے خلاف مقدمہ درج کروایا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button