بلاگ

سوات  پولیس : خبریں رکوانے کےلئے جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج کی روایت برقرار

”جب سوات میں حالات خراب تھے اور آئے روز بم دھماکے ہورہے  تھے تب میں سوات کے ایک مقامی اخبار کیساتھ منسلک تھا اور حقائق پر مبنی خبریں شائع کرتا تھا خواہ وہ خبر کسی کی بھی خلاف ہوتی، میں نتائج کی پرواہ کئے بغیر میں عوام کے حقوق کے لئے حقائق لکھتا تھا ڈرانے دھمکانے پر بھی باز نہیں آیا تو اخبار مالک کے زریعے میرے لکھنے پر پابندی لگا دی گئی جو پابندی اج دن تک قائم ہیں”

یہ کہنا ہے سوات سے تعلق رکھنے والے صحافی انور انجم کا  جو گزشتہ ایک دھائی سے صحافت کے شعبے سے منسلک ہے وہ پہلے ایک مقامی  اخبار پھر دنیا ٹی وی اور اب اج ٹی وی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں رہے ہیں، انجم کے مطابق اسے 2016 میں پولیس کیجانب سے بھی دھماکیاں ملی ہے کیونکہ میں نے پولیس کی کرپشن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ کبل کے علاقہ میں سرکاری گاڑیوں سے پیٹرول نکال کر بیچتے تھےتھیں  اس رپورٹ  کے بعد پولیس سٹیشنوں کے بھی بہت چکر کاٹنے پڑے اور ساتھ ہی دباؤ بھی ڈالنے لگے جب دباؤ سے کچھ نہ بنا تو انہوں  نے میرے کیخلاف پیمرا میں بھی کیس دائر کر دی ایک سال تک میں اس کیس میں بھی خوار ہوتا گیا اور ایک سال کے بعد وہ کیس بھی 2017 میں میں نے جیت لیا۔

رپورٹ شائع  ہونے بعد دھمکیاں یا دباؤ ملنے کے حوالے سے جب ایک دوسرے صحافی ایچ ایم کالامی سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل اور خواتین حقوق رپورٹنگ کے دوران اتنی مشکلات نہیں، جبکہ سیاسی تجزیاتی اور تحقیاتی رپورٹنگ کے بعد  بذریعہ فون دھمکیاں ملتی ہیں۔

کالامی کہتے ہے کہ گورنمنٹ اور سیکیورٹی اداروں پر رپورٹنگ کے دوران کئی بار دباؤ کا شکار رہا، طالبان کے خلاف آپریشن کے بعد مقامی لوگوں کی مشکلات اور تحفظات پر رپورٹنگ کے دوران اسلحہ کی نوک پر اٹھا جاتا تھا ، کئی کئی دن غائب کر دیئے جاتیں تھے اور بعد میں بھی سخت ترین نتائج کی دھمکیاں ملتی تھیں۔

کالامی کے مطابق اب بھی پولیس کی کمزوری یا بدعنوانی پر رپورٹنگ کے باعث کئی بار حبس بے جا میں رہا۔ ان کی حراست  میں رہنے کے بعد مقامی عدالتوں سے باعزت بری ہوا۔ جھوٹے ایف آئی آرز کا سامنا ہوتا ہے۔ اب بھی مقدمہ دہشت گردی سمیت بغاوت کے مقدمات عدالت میں لڑ رہا ہوں اور اس کے علاوہ پولیس مقامی چہیتوں کے ذریعے بھی دھمکاتے ہیں۔

کالامی نے مزید کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مقامی سیاحت اور روایات میں مداخلت پر مقامی باشندوں کے تحفظات پر سٹوری کرنے پر گھر سے میرے بھائیوں تک کو بھی اٹھا لیا گیا، میں نے ان تمام تر دھمکیوں اور تشدد کے حوالے سے سب سے پہلے اپنے ادارے، پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کے ساتھ اعلی حکام کو رپورٹ بھی کیا، صحافتی تنظیموں اور پریس کلب نے بڑا تعاون کیا اس کے ساتھ ساتھ مقامی مشران اور نوجوانوں نے بھی سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی اور میرا ساتھ دیا۔

دھمکیاں ملنے کے حوالے سے جب سبحان اللہ نامی صحافی جو خود پریس کلب کے جنرل سیکرٹری بھی ہے سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جو صحاٖفی فیلڈ میں کام کرتا ہے عمومی طور پر سب کو دھمکیاں ملتی ہیں ان کے مطابق مجھے بھی سیاسی رہنماؤں کیجانب سے کئی دفعہ نوٹس ملے ہیں اور ساتھ ہی کرائم رپورٹنگ کے بعد حتی کہ پولیس کے خلاف رپوڑتنگ کے بعد بھی جھوٹی ایف ائی ار بنایئں گئے ہیں اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کیجانب سے بھی دھمکیاں اور دہشتگردوں کیجانب سے تو جان سے  مارنے کی بھی دھمکیاں ملی ہے۔

سبحان کے مطابق کئی بار اپنے ادارے کو بھی خبردار کیا ہے کہ مجھے ان مسائل کا سامنا ہے مگر ادارے نے کوئی تعاون نہیں کیا تاہم پریس کلب نے اس قسم کی صورتحال میں ہمیشہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساتھ دیا۔

انجم کہتے ہے کہ صحافت کرنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ جب ایک صحافی سچ بولتا ہے تو دھمکیاں ضرور ملے گی انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم بم دھماکہ میں بھی سیکورٹی فورسز یا دہشتگردوں کے بارے میں جانبحق بھی لکھتے تو دونوں جانب سے دھمکیاں ملتے تھے مگر میں نے ان تمام تر مسائل کے باوجود جہدوجہد جاری رکھی اور اج بھی حقائق لکھتا اور رپورٹ کرتا ہوں۔

اس حوالے سے جب سوات پریس کلب کے چیئرمین اور سینئر صحافی محبوب علی کیساتھ صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سوات دہشتگردی کا شکار علاقہ ہیں اور اج بھی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے دباو اور اس کے علاوہ باقی  لوگوں کیطرف سے بھی صحافیوں کو دھمکیاں ملتی ہے۔

محبوب کے مطابق اگر صرف 2021 کی بات کی جائیں تو اس سال بھی پریس کلب کے چار صحافیوں کے خلاف سرکار/پولیس کیجانب سے ایف ائی ار درج کی ہوئیں  ہیں ان کو دھمکیاں بھی ملتے تھیں پھر پریس کلب کے مشران نے اپنا کردار ادا کیا پہلے تو صحافیوں کی ضمانت کروائی جبکہ وہ کیسز ابھی بھی عدالت میں وہ لڑ رہے ہیں۔

محبوب نے مزید کہا کہ جیسا سب کو معلوم ہے کہ سوات دہشتگردی سے بہت متاثر ہوا ہے جس میں سوات کے صحافی بھائی بھی متاثر ہوئے ہیں جن میں سوات سے تعلق رکھنے والے چار صحافی مارے گئے تھے جبکہ چھ صحافی زخمی بھی کر دیئے گئے تھیں،  اگر کسی بھی صحافی کے اوپر کوئی بھی مسلہ یا پریشانی آتی ہے تو کوئی بھی سکیورٹی ادارہ یا پولیٹکل رہنما صحافی کی مدد نہیں کرتا مگر صحافیوں کے جو اپنے تنظیمیں ہیں جیسا کہ سوات پریس کلب، سوات یونین آف جرنلسٹ یا صوبے اور مرکز کی سطح پر جو تنظیمیں ہیں وہ کسی نہ کسی شکل میں اپنے صحافی بھائیوں کیساتھ تعاون ضرور کرتے ہیں۔

اس حوالے سے جب سوات یونین اف جرنلسٹ کے صدر فضل رحیم خان کیساتھ رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم سوات پریس کلب کے تمام ممبرز ہمیشہ ایسے صحافیوں کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو کسی بھی قسم کے دباؤ اور دھمکیوں کے شکار ہو اور یونین نے ہمیشہ اپنے فرائض پورے کیئے ہے اور ائندہ بھی کرتا رہیگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button