خبریں

سوات میں سیاحت سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مسائل کون سنے گا؟

ملک میں سیاحت کا فروغ تحریک انصاف کی حکومت کی والین ترجیحات میں شامل ہے لیکن اس عزم کو پایا تکمیل  تک پہنچانے کےلئے میڈیا کا تعاون درکار ہے،سوات سے تعلق رکھنے والےصحافی سیاحت کے فروغ کےلئے ڈیجیٹل ویب سائٹ کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔ ان صحافیوں میں سیاحت پر کام کرنے والے  سینئرصحافی شیرین ذادہ بھی ہیں  جو گزشتہ کئی سالوں سے صحافت کے ساتھ ساتھ  سیاحت کی فروغ کے لئے بھرپور کوشاں ہے اوراس حوالے سے انہوں نے  بہت سارے وی لاگز بھی بنائے ہیں۔

 

شیرین زادہ کہتے ہے کہ اگر معمول کی رپورٹنگ کریں تو کوئی خطرہ نہیں لیکن اگر دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں سفر کرتے ہیں توان کو رپورٹ انہیں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ خراب موسم میں یسا کہ موسم کا بھی مسئلہ ہوتا ہے جبکہ پہاڑوں میں موجود جانور اور سنو لیپرڈ ریچھ وغیرہ بہت خطرے کا باعث بنتے  ہیں ۔حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ  حکومت کی جانب سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جاتا، تاہم کبھی کبھار ٹریننگ کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں ہوتا، اس قسم کی رپورٹنگ سے متعلق صحافیوں کو خصوصی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

شیرین زادہ نے ان لائن وی لاگ کے حوالے سے بتایا کہ اگر وی لاگ سیاحت کے حوالے سے ہو اوراس میں غلط معلومات فراہم کی گئی ہوں تو اس سے علاقے کی  سیاحت پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں

 

سیاحت سے متعلق رپورٹنگ اور وی لاگ کے حوالے سے جب سوات پریس کلب کے چیئرمین اور نامور صحافی محبوب علی سے بات کی گئی  تو انہوں نے کہا کہ دیگر رپورٹنگ کے مقابلے میں ٹورزم رپورٹنگ میں پریشر گروپز کیجانب سے خطرات نہ ہونے کی برابر ہے،  سٹیٹ اور نان سٹیٹس ایکٹرز کیجانب سے بھی اس قسم کی رپورٹنگ میں خطرات نہ ہونے کے برابر ہے۔البتہ  ٹورزم رپورٹنگ میں خاص طور پر پاکستان اور بالخصوص شمالی علاقہ جات میں کوریج کرنے کے لئے جانے میں علاقائی مسائل جیسا کہ دشوار گزار راستے ، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی جیسی مشکلات آسکتی ہیں۔ کیونکہ سیاحت کی رپورٹنگ کرنے والے رپورٹرز ہوتے ہیں وہ ایسے علاقوں  کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہے کہ جہاں پر پہلے کوئی سیاح نہ گیا ہوتو یقینا وہاں پر کھٹن راستوں کے باعث ایسے صحافی مختلف خطرات کا شکار ہوتے ہے اور بعض اوقات حادثات بھی پیش اتے ہیں۔

محبوب علی سے جب حکومتی اقدامات اور سپورٹ کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رپورٹرز کیساتھ سپورٹ اور سہولیات فراہم کرنا بلکل نہ ہونے کے برابر ہے انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب صحافی مختلف میلوں اور فیسٹیولز میں سیاحت کی کوریج کیلئے جاتے ہے تو ان کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہوتا ہے مختلف چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے مختلف قسم کے سوالات کے جوابات دینے پڑتے ہے سپیشل کارڈز بنانے پڑتے ہے اور انہوں نے کہا کہ حکومتی اور غیر حکومتی دونوں جانب سے صحافیوں کو کسی قسم کی سہولیات یا سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی۔

محبوب نے وی لاگ کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے اور وی لاگ کے زریعے بھی اچھےتحقیقاتی رپورٹس اور سیاحتی علاقوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

وقار سواتی جو خود سیاحتی علاقوں سے متعلق رپورٹنگ کرتے ہیں ، وہ  کہتے ہیں کہ سیاحت سے متعلق  رپورٹنگ کے دوران صحافی کو بہت خطرات لاحق ہوسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ ایک دفعہ مالم جبہ کوریج کے لئے گیا تو وہاں پر کوریج کے دوران اچانک موسم خراب ہوگیا اور برفباری شروع ہوگئی، شدید برفباری کے باعث سڑکیں بند ہوگئیںجس کے باعث انہیں واپس آنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

واقعہ یاد کرتے ہوئے وقار بتاتے ہیں کہ وہ وہ آدھی رات تک برفباری میں کھڑےرہے اور گاڑی کو نکالنے کی بھرپور کوشش کی اس دوران کوئی مدد کے لئے نہیں آیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ سیاحت اور سیاحتی علاقوں میں موجود لوگوں کوسیاحت کے لئے کام کرنے والے صحافیوں کے بھرپور خدمت کرنی چاہئے اور انہیں ہر مشکل کے وقت ان کا خیال رکھنا چاہئے۔

 

ٹوارزم کوریج کے حوالے سے حکومتی سپورٹ کے حوالے سے وقار نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ سیاحت ان دنوں سیاحت کی فروغ کے لئے بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ۔ خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ سیاحت کی سوات میں سیاحت کی فروغ کے لئے کاوشیں قابل تحسین ہے اور مختلف ایونٹس میں انہیں حکومت نے بھرپور سپورٹ کیا ہے۔

 

صحافیوں کو ٹورزم رپورٹنگ میں خطرات لاحق ہونے کے حوالے سے جب ڈی جی ٹوارزم سروسز غلام سید سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ سیاحت کی فروغ کے لئے بھرپور اقدامات اٹھارہے ہیں ۔ صحافیوں کو بھی بھرپور سپورٹ کررہےہیں اور صحافی بھی سیاحت کی فروغ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں اور حکومت کیجانب سے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ صحافیوں کو سہولیات کیساتھ ساتھ سیکیورٹی بھی فراہم کی جائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button