خبریں

کرونا وباء سے نمٹنے کے لئے ضروری اقدامات اور معاشرے پراسکے اثرات

سی پی ڈی آئی کی کرونا وباء سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں جائزہ رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ وباء کے دور رس اثرات آج بھی عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں ۔ اس تحقیق میں حکومت کے بعض مربوط اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی جو کہ وباء کے دور میں فائدہ مند ثابت ہوئے جبکہ باقی دنیا وباء کی سخت لپیٹ میں تھی۔ سب کے لئےویکسین کی بروقت فراہمی، ایس او پیز کے حوالے سے فوری آگاہی مہم، لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن ، پالیسی سازی میں شہریوں کی شمولیت ، وبائی امراض کے دوران ذہنی صحت سے متعلق مفید مشاورت، پسماندہ طبقات کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات اور اس طرح کی مزید سفارشات اسلام آباد میں سی پی ڈی آئی اور کامن ویلتھ فاونڈیشن کی جانب سے منعقد کردہ پالیسی ڈائیلاگ میں دی گئیں۔

اس مکالمے کا مقصد تحقیقی مطالعہ کے نتائج کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کرنا اور ملک کے مختلف خطوں میں معاشرے کے مختلف طبقات کو درپیش مسائل کے علاوہ جہاں ضروری ہو اصلاحی اقدامات کی سفارش کرنا تھا۔ ماہرین کی ایک وسیع تعدادنے مکالمے میں حصہ لیا تاکہ مطالعہ کے اعداد کی بنیاد پر سفارشات مرتب کی جائیں اور وباء کی ایک اور لہر کی صورت میں پالیسی سازوں کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ طے کیا جائے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کرونا وباء کے معاشرے کے مختلف طبقات پر کثیر الجہتی اثرات مرتب ہوئے ہیں ؛ خاندانوں، افراد اور مجموعی طور پر ملکی معیشت پر اثرات، تعلیم کے شعبے اور بچوں پر اثرات اور صحت کے شعبے پر اثرات جو پسماندہ طبقات سمیت عام آدمی کی زندگی پر متناسب منفی اثرات مرتب کرتے آرہے ہیں ۔

رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے رائے دی کہ حکومت کی جانب سے کچھ اقدامات وقت کا تقاضا ہے کہ کورونا وائرس کے نئے پھوٹنے والے اومیکرون وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جلد از جلد اٹھائے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہوائی اڈوں پر تشخیصی سہولیات، لیبارٹریزکی اپ گریڈیشن، ایس او پیز پر عمل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم، آکسیجن اور حفاظتی آلات کی فوری فراہمی ان چند اقدامات میں شامل ہیں جو کےوقت کا اہم تقاضا ہے۔ مکالمے میں شامل ماہرین نے متفقہ طور پر نئی لہر سے نمٹنے کے لیے درج ذیل سفارشات پر فوری عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا،؛

  • ۔ شفافیت پر سمجھوتہ کیے بغیر تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینا چاہئے اورپالیسی سازی کے عمل ، منظوری اور عملدرآمد کو فوری یقینی بنانا چاہئے۔
    ۔ وبائی امراض سے پیدا ہونے والے مسائل سے بہتر طریقے سے نمٹنے کے لیے صحت اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔
    ۔ پرائمری ہیلتھ کیئر کو بغیر کسی تفریق کے اس کا جائز حصہ ملنا چاہیے۔
    ۔ ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات میں متعدی امراض کے مریضوں کے لیے علیحدہ وارڈز مختص ہونے چاہیے۔
    ۔ وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کی صحت کی سہولیات کے مشترکہ منصوبہ سازی کے عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے اور اسکے لئے طریقہ کار وضع ہو نا چاہئے۔
    ۔ خاص طور پر وبائی امراض کے پیش نظر ادویات کی قیمتوں میں کمی کی جانی چاہیے اس مقصد کے لیے فارماسیوٹیکل عملے کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ مقامی صنعت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے قیمتوں کے تعین، ادویات تک مساوی رسائی، درآمدات میں اصلاحات، ٹیکس میں چھوٹ اور مقامی صنعت کاروں کے لیے چھوٹ پر نظرثانی کی جائے۔
    ۔ وبائی امراض کے دوران صحت کے عملے کے دلیرانہ کارناموں کو انعامات اور بڑھے ہوئے معاوضوں کے ذریعے تسلیم کیا جانا چاہئے۔
    ۔ وبائی امراض جیسے حالات کے دوران پسماندہ اور غریب طبقات کے لئے ترجیحی بنیادوں پر صحت کی سہولیات اور ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تا کہ ان کو درپیش مسائل کا خاتمہ ہو سکے۔
    ۔ وبائی امراض اور احتیاطی تدابیر سے وابستہ توہمات کے خلاف دیہی علاقوں میں اگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جائے۔
    ۔ حکومت کرونا ویکسین کے خلاف غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف اقدامات اٹھاہیں اور عوام کو غلط اور جھوٹی معلومات کے خلاف آگاہ کرنا چاہیے۔
    ۔ حکومت کو وبائی امراض کے دوران ویکسین تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔
    ۔ وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر بامعاوضہ رضاکاروں کی بھرتی کے لیے پالیسی وضع کی جائے۔

اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ وبائی مرض سے مؤثر طریقے سے نمٹنے اور اس کی شدت کو ختم کرنے کے لیے حکومت کے مختلف صفوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ خواتین کی ویکسینیشن کو اسی حکمت عملی کے ساتھ یقینی بنایا جائے جیسا کہ پولیو ویکسینیشن مہم کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ شرکاء نے خاص طور پر بحرانی صورتحال میں پالیسی سازی کے لیے شمولیتی نقطہ نظر کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ ایسا کرنے سے نہ صرف پالیسی سازی کے عمل پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ انکے مسائل کی نشاندہی بھی ہوگی اور انکے حل کےلئے تجاویز بھی پیش ہونگے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button