انسانی حقوق

پاکستان میں ایچ آئی وی کا خاموش بحران: ہزاروں مریض، لاکھوں لاپتہ کیسز اور نظامِ صحت کے بڑے سوالات

پاکستان میں HIV/AIDS کا بحران خاموشی سے بڑھ رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں HIV سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، لیکن ماہرین صحت کے مطابق اصل صورتحال سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ ابھی تک تشخیص اور علاج کے نظام سے باہر ہیں۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام (NACP) کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ HIV مریضوں کی تعداد 2022 میں تقریباً 57 ہزار 940 تھی، جو 2023 میں بڑھ کر 64 ہزار سے زائد ہو گئی۔ 2024 میں یہ تعداد 72 ہزار 515 تک پہنچ گئی، جبکہ دسمبر 2025 تک ملک بھر میں 84 ہزار 421 افراد HIV کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے تھے۔ تاہم عالمی ادارے UNAIDS اور دیگر صحت کے اداروں کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں HIV کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار تک ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افراد ایسے ہو سکتے ہیں جو یا تو اپنی بیماری سے لاعلم ہیں یا پھر علاج اور طبی سہولیات تک نہیں پہنچ سکے۔

صرف 2025 میں پاکستان میں تقریباً 14 ہزار نئے HIV کیسز رپورٹ ہوئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وائرس کی منتقلی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق HIV کے پھیلاؤ کو صرف ایک وجہ سے جوڑنا درست نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی سماجی، معاشی اور صحت کے نظام سے متعلق عوامل موجود ہیں۔ ان میں بروقت ٹیسٹنگ کی کمی، بیماری سے جڑا سماجی خوف، کمزور آگاہی، غیر محفوظ طبی طریقہ کار، خون کی ناکافی اسکریننگ، اور کمزور طبقات کے لیے نفسیاتی و مالی مدد کا فقدان شامل ہے۔

پاکستان میں HIV کے مریضوں کے علاج کے لیے Antiretroviral Therapy (ART) مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 98 ART سینٹرز کام کر رہے ہیں، جہاں مریضوں کو مفت ادویات، ٹیسٹنگ، مشاورت اور علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ دسمبر 2025 تک رجسٹرڈ مریضوں میں سے تقریباً 60 ہزار 785 افراد ART علاج حاصل کر رہے تھے۔ تاہم علاج تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو دی گئی معلومات کے مطابق تقریباً 20 ہزار مریض ایسے ہیں جنہوں نے علاج شروع کیا لیکن بعد میں فالو اپ چھوڑ دیا۔

صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں HIV کا ایک اہم پہلو نوجوانوں اور کمزور طبقات کی صورتحال بھی ہے۔ غربت، روزگار کے مواقع کی کمی، نفسیاتی دباؤ، مناسب رہنمائی کا فقدان اور سماجی خاموشی ایسے عوامل ہیں جو بہت سے افراد کو خطرناک حالات کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ دوسری جانب معاشرے میں HIV کے بارے میں غلط فہمیاں اور بدنامی کا خوف بھی متاثرہ افراد کو ٹیسٹ کروانے اور علاج حاصل کرنے سے روکتا ہے۔

پاکستان کا HIV پروگرام بڑی حد تک بین الاقوامی تعاون سے بھی چل رہا ہے۔ Global Fund پاکستان میں HIV کے خلاف اقدامات کے لیے ایک اہم مالی معاون ادارہ ہے، جو ادویات، ٹیسٹنگ کٹس، لیبارٹری سہولیات اور کمیونٹی پروگرامز کے لیے مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ UNAIDS، عالمی ادارہ صحت (WHO)، UNDP اور UNICEF بھی پاکستان میں HIV کی روک تھام، پالیسی سازی، تحقیق، بچوں اور خواتین کے تحفظ، اور علاج کے نظام کو بہتر بنانے میں معاونت کر رہے ہیں۔

تاہم ایک بڑا سوال اب بھی موجود ہے کہ اگر پاکستان میں لاکھوں افراد HIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں تو ان میں سے بڑی تعداد سرکاری نظام تک کیوں نہیں پہنچ رہی؟ کیا ہر ضلع میں ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولت دستیاب ہے؟ کیا بین الاقوامی اداروں سے ملنے والی فنڈنگ کا مکمل شفاف استعمال ہو رہا ہے؟ اور کیا پاکستان کا صحت کا نظام صرف علاج فراہم کر رہا ہے یا بیماری کی بنیادی وجوہات، آگاہی، ذہنی صحت اور سماجی تحفظ کے مسائل کو بھی حل کر رہا ہے؟

پاکستان میں HIV/AIDS صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صحت کے نظام، انسانی حقوق، سماجی رویوں اور حکومتی ترجیحات کا امتحان ہے۔ جب تک معاشرہ اس بیماری کو خوف اور شرمندگی کے بجائے آگاہی، علاج اور مدد کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھے گا، تب تک ہزاروں لوگ خاموشی سے اس بحران کا سامنا کرتے رہیں گے۔

Back to top button