انسانی حقوق

عدالتی احکامات کے باوجود سندھ میں اقلیتی عبادت خانوں کو سیکیورٹی نہ مل سکی

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے اولڈ ایریاز میں واقع قدیم آبادی ’سیتل داس کمپاؤنڈ‘ کے رہائشی رام نے اپنی آنکھوں اور چہرے کو موبائل سے بچاتے ہوئے انتہائی رازداری کے ساتھ بتایا کہ جب بھی پڑوسی ملک بھارت میں مسلمانوں پر حملہ ہوتا ہے یا وہاں کوئی اسلامی تعلیمات کی توہین کرتا ہے تو ہم پاکستان میں ڈر جاتے ہیں اور کئی دن تک خوف کے مارے آزادانہ طریقے سے زندگی گزار نہیں پاتے۔

کچھ بھی کہنے سے قبل کئی بار اپنے اندر ہی اندر میں بہتر الفاظ منتخب کرنے کے لیے کافی دیر تک خاموش رہنے کے بعد رام نے بتایا کہ بھارت میں مسلمانوں یا اسلام کے خلاف ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بعد پاکستانی ہندوخوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سینکڑوں میل دور ہونے والے کسی ناخوشگوار واقعے سے وہ کیوں ڈر جاتے ہیں؟ تو انہیں سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دیں لیکن پھر کافی دیر تک خاموش رہنے کے بعد کہا کہ وہ اس لیے ڈرتے ہیں کہ وہاں مسلمانوں پر ان کے ہم مذہب لوگوں نے ظلم کیا ہوتا ہے۔

رام کا اصل نام تو کچھ اور ہے مگر سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے اور وہ بھی ان 2 سے 3 ہزار افراد میں سے ایک ہیں جو بعض اوقات کشیدہ حالات کے باعث ’سیتل داس کمپاؤنڈ‘ میں خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

’سیتل داس کمپاؤنڈ‘ کراچی کے اولڈ ایریاز لیاری اور صدر ٹاؤن کے سنگم پر واقع ہے، یہ علاقہ چاروں طرف سے مسلم آبادی سے گھرا ہوا ہے۔

’سیتل داس کمپاؤنڈ‘ دراصل ایک محلے یا گلی کی طرح ہے، جو قیام پاکستان سے ہی وہاں موجود ہے، یہاں 150 سے 200 کے درمیان گھر ہیں، آبادی کے قریب متعدد مساجد اور مشہور سیتا ماتا کا مندر بھی ہے جب کہ تھوڑے ہی فاصلے پر چرچ بھی واقع ہے۔

خوش آئند  بات یہ ہے کہ سیتل داس کمپائونڈ کی آبادی میں 25 سے 30 کے قریب گھر مسلمانوں کے ہیں اور دونوں مذاہب کے پیروکار سالوں سے ایک ساتھ زندگی کے دکھ اور سکھ بانٹتے آ رہے ہیں۔

سیتل داس کمپاؤنڈ میں رہنے والے زیادہ تر ہندو نچلی ذات کے ہیں اور ان کا گزر سفر چھوٹی ملازمتیں کرنے سے ہوتا ہے، وہاں کے زیادہ تر لوگ گھروں، دفاتر اور مارکیٹوں کے واش رومز صاف کرنے سمیت جھاڑو پوچا لگانے کا کام کرتے ہیں۔

تاہم کچھ گھرانوں کے بعض نوجوان دوسرے کام بھی کرتے ہیں مگر ایسے نوجوانوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

سیتل داس کمپاؤنڈ مین روڈ کے قریب ہی ہے اور نیپیر پولیس تھانہ اس آبادی سے ایک کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔

کراچی کے اولڈ ایریاز میں واقع قدیم آبادی ’سیتل داس کمپاؤنڈ‘ کے مناظر

سیتل داس کمپاؤنڈ میں تقریبا 150 ہندو گھرانوں کے لیے صرف ایک ہی 15 فٹ چوڑے اور اتنی ہی لمبائی پر موجود کمرے کا مندر ہے، جو کسی بھی ادارے کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے۔

اگرچہ آبادی میں مسلمانوں کے گھر بھی موجود ہیں مگر ان کے لیے کوئی بھی مسجد وہاں موجود نہیں، تاہم 300 سے 500 میٹر کے فاصلے پر آبادی کے قریب ہی مساجد موجود ہیں۔

سیتل داس کمپاؤنڈ نومبر 2020 میں اس وقت میڈیا میں خبروں کی زینت بنا تھا جب کہ وہاں موجود چھوٹے سے مندر پر نامعلوم شرپسند افراد نے دھاوا بول کر وہاں تھوڑ پھوڑ کرتے ہوئے مجسموں کو توڑ دیا تھا۔

سیتل داس کمپاؤنڈ میں موجود چھوٹے مندر کو توڑنے والے افراد اگرچہ بہت زیادہ تعداد میں نہیں تھے مگر ان کا تعلق اکثریتی آبادی سے ہونے کی وجہ سے وہاں کے مقامی ہندو افراد میں خوف تھا۔

سیتل داس کمپاؤنڈ میں بسنے والے زیادہ تر افراد میں اس لیے خوف تھا، کیوں کہ ان پر توہین اسلام کا الزام لگاکر مندر کی توڑ پھوڑ کرکے گھروں پر بھی حملے کیے گئے۔

مذکورہ واقعے کو یاد کرتے ہوئے عمر رسیدہ رام نے بتایا کہ مندر پر شام ڈھلے نامعلوم افراد نے حملہ کیا تھا اور انہوں نے اس سے قبل حملہ کرنے والے افراد کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

رام کے مطابق انہیں یقین ہے کہ مندر اور آبادی پر حملہ کرنے والے ان کے پڑوسی نہیں ہوں گے، تاہم ضرور ان افراد کا تعلق اسی علاقے سے ہوگا۔

رام کے ساتھ کھڑے ہوئے بھگوان نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ مبینہ طور پر مندر پر حملہ کرنے والے افراد کسی جماعت کے رکن ہوں گے، تاہم حملہ آوروں کے پاس کسی جماعت کا جھنڈہ بھی نہیں تھا۔

بھگوان کا کہنا تھا کہ اس دن حملہ آوروں کے محلے میں داخل ہوتے ہی سب گھروں میں چھپ گئے یا پھر محلے سے بھاگ کر دوسری جگہ چلے گئے، اس لیے واضح طور پر معلوم نہیں ہوسکا کہ حملہ کرنے والے افراد کون تھے؟

رام اور بھگوان کی باتوں کو سننے والے نوجوان وشنو نے ان کی بات میں مداخلت کرتے ہوئے بتایا کہ مندر پر حملہ کرنے والے زیادہ تر لوگوں کی عمریں 40 سال تک تھیں اور وہ مختلف نعرے لگاکر توڑ پھوڑ کرتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے کچھ گھروں کے دروازوں پر بھی توڑ پھوڑ کی اور ان کے محلے کے بعض لوگ زخمی بھی ہوئے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

ایک سوال کے جواب میں رام نے بتایا کہ حملہ آوروں نے الزام لگایا تھا کہ سیتل داس کمپاؤنڈ سے نکلنے والے ایک کتے پر نامناسب جملے لکھے ہوئے تھے، جس وجہ سے انہوں نے مندر پر حملہ کیا۔

 

سیتل داس کمپاؤنڈ پر حملے کی خبریں سوشل میڈیا پر ملنے کے بعد قریبی پولیس تھانے نیپیئر کے اہلکار وہاں فوری طور پر پہنچے تھے جب کہ بعد ازاں ہندو پنچائت کے سربراہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی رمیش کمار وانکوانی بھی وہاں آ پہنچے۔

پولیس اور رمیش کمار وانکوانی کے پہنچنے کے بعد سیتل داس کمپاؤنڈ کے حالات قدرے نارمل ہوئے، تاہم اس باوجود وہاں کے لوگوں نے چند دن تک انتہائی خوف کے عالم میں زندگی گزاری۔

بعد ازاں پولیس نے سرکاری مدعیت میں مقدمہ دائر کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرکے کچھ کارروائیاں بھی کیں مگر اس طرح کے دیگر کیسز کی طرح اس واقعے کا بھی کوئی خاص حل نظر نہیں آیا۔

سیتل داس کمپاؤنڈ پر حملے کے حوالے سے رمیش کمار وانکوانی کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد انہوں نے پوری رات وہاں گزاری تھی اور پولیس کی اچھی نفری موجود ہونے کے باجود وہاں کی آبادی میں خوف تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک کتے پر لکھے گئے مبینہ جملوں کو جواز بنا کر نہ صرف ہندو مذہب کی توہین کی گئی بلکہ وہاں درجنوں لوگوں کی زندگی کو بھی داؤ پر لگایا گیا مگر خوش قسمتی سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

انہوں نے سیتل داس کمپاؤنڈ کے مندر پر حملے کے تناظر میں سندھ بھر میں ہندو مذہبی عبادت خانوں اور ہندو افراد کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں پر بات کی اور کہا کہ اگرچہ ماضی کے مقابلے میں حالات زیادہ بہتر نہیں ہوئے مگر انہیں امید ہے کہ اگر پاکستانی ادارے اور عدالتیں اقلیتی افراد کا ساتھ دیتی رہیں تو حالات ضرور تبدیل ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ مندر پر حملے کے علاوہ گزشتہ برس شمالی سندھ کے ضلع گھوٹکی اور بدین سائیڈ پر بھی مندر پر حملہ کیا گیا جب کہ پورا سال مختلف الزامات کے تحت  ہندوؤں کے ساتھ ناانصافیاں ہوتی رہیں اور جبری مذہب تبدیلی کےواقعات بھی تواتر سے ہوتے رہے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ اقلیتوں اور خصوصی طور پر ہندوؤں کے ساتھ ہونے والے جرائم پر قومی اور خصوصی طور پر اردو زبان کا میڈیا رپورٹنگ نہیں کرتا، جس وجہ سے عام پاکستانیوں کو اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا علم ہی نہیں ہوپاتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ان سمیت دیگر افراد کی درخواست پر 2014 کے تاریخی فیصلے میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلہ سنایا تھا، جس کی بدولت قومی اقلیتی کمیشن کا قیام عمل میں آیا جب کہ دیگر اقدامات پر کام جاری ہے۔

انہوں نے اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واضح طور پر عبادت گاہوں کی خصوصی سیکیورٹی کے احکامات دیے اور اب چاروں صوبے، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں ان احکامات پر عمل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

رمیش کمار وانکوانی نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں چاروں صوبوں کی پولیس اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے منصوبہ بندی بنا رہی ہے جب کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کی پولیس نے خاکہ بھی تیار کرلیا ہے۔

رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھاکہ نیشنل ایکشن پلان اور اقلیتی کمیشن کے اجلاسوں میں صوبہ سندھ کی جانب سے اقلیتی مذاہب کی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے پیش کیے گئے خاکے پر بات ہو چکی ہے مگر تاحال سندھ بھر میں کہیں بھی اقلیتی عبادت گاہوں کو عدالتی احکامات کی روشنی میں سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکی، البتہ بڑے اور معروف مندروں میں پہلے سے ہی سیکیورٹی موجود ہے اور ان مندروں نے ذاتی سطح پر بھی انتظامات کر رکھے ہیں۔

رمیشن کمار وانکوانی کا کہنا تھا کہ اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے سندھ پولیس ایک خصوصی یونٹ قائم کرے گا جو کہ انسداد دہشت گردی یا تفتیشی یوںٹ کی طرح کام کرے گا، تاہم اس کے لیے بھی خصوصی بجٹ درکار ہے، جس کے لیے صوبائی حکومت کے پاس تجاویز گئی ہوئی ہیں۔

انہیں امید ہے کہ آئندہ کچھ عرصے میں سندھ پولیس اقلیتی مداہب کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی یونٹ قائم کرنے میں کامیاب جائے گی، جس کے بعد امکان یہی ہے کہ مذکورہ خصوصی یونٹ ہر طرح کا اقلیتوں پر مظالم کا ڈیٹا بھی تیار کرے گا اور اقلیتوں کے مسائل اچھی طرح سے اجاگر ہوں گے۔

رمیش کمار وانکوانی کی امید افزا باتیں اپنی جگہ مگر مندر پر حملے کے بعد تاحال سندھ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی نہ ملنے پر خوف سے متعلق ایک سوال پر سیتل داس کمپاؤنڈ کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انہیں مندر پر حملے کے بعد چند ہفتوں تک خوف کی زندگی گزارنی پڑی، تاہم اب حالات معمول پر آ چکے ہیں اور چوں کہ نیپیئر پولیس تھانہ قریب میں ہے، اس لیے انہیں جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو فوری طور پر تھانے جاکر اطلاع دے دیتے ہیں۔

عمر رسیدہ رام نے بتایا کہ اگرچہ پولیس کا رویہ کسی بھی شہری کے ساتھ بہت ہی اچھا نہیں ہوتا تاہم نومبر 2020  میں ان کی آبادی اور مندر پر حملے کے بعد پولیس نے ان کا تحفظ کیا۔

سیتل داس کمپاؤنڈ کے رہائشیوں نے بتایا کہ توڑ پھوڑ کے بعد مندر کی بحالی میں بھی نیپیئر پولیس نے اچھا کردار ادا کیا اور مندر کو مجسمے بھی فراہم کیے۔

اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے سپریم کورٹ کا حکم

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے 19 جون 2014 کو اپنے اہم فیصلے میں حکومت پاکستان اور تمام صوبائی حکومتوں کو حکم دیا تھا کہ مذہبی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی فورسز یونٹ کا قیام عمل میں لایا جائے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں قائم بینچ نے اپنے تاریخی فیصلے میں حکومت پاکستان کو اقلیتی افراد کے حقوق کے لیے قومی کمیشن بنانے اور اقوام متحدہ (یو این) کی 1981 کی قرار داد کے تحت تعلیمی نصاب کو تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی۔

سپریم کورٹ نے مذکورہ تاریخی فیصلے میں بانی پاکستان کی 11 اگست 1948 کی تقریر کے حوالے سمیت قرآن و حدیث اور کئی عالمی ماہرین کی کتابوں کے حوالے بھی دیے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں امریکا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں اقلیتوں سے متعلق ہونے والے عدالتی فیصلوں اور قوانین کا حوالہ بھی دیا تھا اور کہا تھا کہ کسی طرح بھی اقلیتی افراد دوسرے درجے کے شہری نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 20 کی ذیلی شق (اے) انفرادی اور اجتماعی مذہبی آزادی کے حق کا اعادہ کرتی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری، ہر مذہبی فرقہ اور گروہ اور ایک پہلو دوسرے پر غالب نہیں آ سکتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 20 ہر شہری مذہبی آزادی سے متعلق تین حقوق دیتا ہے، مذہب اختیار کرنے کا حق، مذہبی عبادت کا حق اور مذہبی تبلیغ کا حق، عدالت نے واضح کیا تھا کہ مذہبی تبلیغ کا حق صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ حق تمام مذاہب کو حاصل ہے۔

عدالت نے مذکورہ تاریخی فیصلے میں جہاں تمام مذاہب کی آزادی کی بات کی تھی، وہیں عدالت نے حکومت کو واضح ہدایت کی تھی کہ اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔

مندر کے اندرونی مناظر

 

عدالتی احکامات کے باوجود صوبے میں اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی نہ دی جا سکی

سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے بعد سندھ پولیس نے دسمبر 2020 میں وزارت داخلہ کو اقلیتی مذاہب کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی فورس ۰اسپیشل پولیس فورس‘ (ایس پی ایف) تشکیل دینے سے متعلق ایک سمری بھیجی تھی۔

سندھ پولیس کی سمری میں وزارت داخلہ سے پہلے مرحلے میں مذکورہ فورس کے لیے تقریبا 4 ہزار اہلکار بھرتی کرنے کے لیے خصوصی فنڈز مانگے گئے تھے۔

سمری میں بتایا گیا تھا کہ صوبے بھر میں ہندو مذہبی عبادت گاہوں کی تعداد 735، مسیحی عبادت گاہوں کی تعداد 662، سکھ عبادت گاہوں کی تعداد 22، قادیانیوں کی عبادت گاہوں کی تعداد 58، ذکر خانوں کی تعداد 5 اور ایک آتش کدہ ہے۔

سمری میں بتایا گیا تھا کہ ہر اقلیتی عبادت گاہ پر ابتدائی طور پر اسپیشل فورس کے اہلکار 2 سال کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔

سمری میں اسپیشل فورس کے قیام کے لیے عام پولیس اہلکاروں سمیت افسران کی بھرتی کی سفارش بھی کی گئی تھی۔

اگرچہ تاحال اس ضمن میں سندھ حکومت نے کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا مگر سندھ پولیس کی مذکورہ سمری پر سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے بنائے گئے ون مین کمیشن آن مینارٹی رائٹس کے حالیہ اجلاس میں اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

ون مین کمیشن کو سپریم کورٹ کے احکامات پر 2019 میں بنایا گیا تھا، جس کی سربراہی شعیب سڈل کر رہے ہیں اور مذکورہ کمیشن کا کام عدالت کے 2014 میں اقلیتوں سے متعلق دیے گئے تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کرانا ہے۔

کمیشن کی جانب سے مئی 2021 میں جاری کی گئی سمری رپورٹ میں سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کی پیش رفت سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ نیشنل کونسل فار مینارٹیز (این سی ایم) کی قانون سازی اور قیام سمیت یکساں نصاب، اقلیتی عبادت گاہوں کی بحالی سے متعلق متروکہ املاک بورڈ کی کارکردگی، اقلیتی افراد کی ملازمتوں کی کوٹا پر عمل درآمد، عبادت گاہوں کی سیکیورٹی اور کم عمر لڑکیوں کے جبری مذہب تبدیلی جیسے واقعات کی روک تھام کے معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

شعیب سڈل کمیشن کی سمری رپورٹ میں سندھ پولیس کی جانب سے اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی فورس کے قیام کی سمری کی تعریف بھی کی گئی۔

شعیب سڈل کمیشن کی تعریفیں اپنی جگہ اور سندھ پولیس کی کاوشیں بھی اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کو 19 جون کو 7 سال مکمل ہوجائیں گے، تاہم تاحال اقلیتی عبادت گاہوں کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکی اور نہ ہی پولیس کی جانب سے اسپیشل فورس کے قیام کی کاوشیں کاغذات سے آگے بڑھ پائی ہیں۔

عدالتی احکامات کے باوجود صوبے بھر میں مذہبی عبادت گاہوں کو سیکیورٹی فراہم نہ کرپانے کے حوالے سے سماجی تنظیم سینٹر فار سوشل جسٹس (سی ایس جے) کی سپریم کورٹ کے 2014 کے تاریخی فیصلے پر انصاف میں تاخیر کے نام سے مرتب رپورٹ میں بھی تاحال اقلیتی عبادت خانوں کو سیکیورٹی فراہم نہ کر پانے پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سندھ بھر میں کراچی کے ینگ مین کرسچین ایسوسی ایشن (وائے ایم سی اے) کے گرائونڈ سمیت دیگر عبادت گاہوں کے میدانوں پر قبضے کے معاملات حل نہیں ہوئے جب کہ صوبے میں کسی بھی عبادت گاہوں کو عدالتی احکامات کے باوجود سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکی۔

رپورٹ میں 7 سال گزر جانے کے باوجود اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اسپیشل فورس کے قیام نہ ہو پانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور پولیس سمیت حکومتی سستی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

مذکورہ رپورٹ میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے دیگر پہلوئوں پر بھی تاحال پیش رفت نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

Back to top button