ماحولیات

موسمیاتی تبدیلیوں نے ناہید اختر کا گھر اجاڑ دیا

تحریر:وقار احمد

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں 2010 اور 2022 کے دوران تباہ کن سیلاب کے باعث سینکڑوں مکان متاثر ہوئے ان میں ایک ناہید اختر کا گھر بھی شامل تھا جن کا تعلق سیاحتی علاقہ بحرین سے ہے ،وہ کہتی ہے کہ ان کا گھر دو بار سیلاب میں بہہ چکا ہے جس سے انہیں شدید نقصان اٹھانا پڑا وہ کہتی ہے کہ انہیں مالی اور ذہنی نقصان ہوا ہے ۔ جب 2022 میں سیلاب ایا تو وہ اپنے میاں اور بچوں کے ساتھ گھر سے نقل مکانی کرگئیں  اور ان کا گھر سیلاب میں بہہ گیا ، ناہید اختر کے میاں نجی بینک کا ملازم ہیں  جبکہ ان کے 5 بچے بھی ہیں  ان 5 بچوں میں 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہیں ۔

ناہید اختر کہتی ہے کہ ہم سیلاب سے پہلے گھر میں خوشی سے رہتے تھے ہمیں تمام سہولیات موجود تھیں لیکن سیلاب میں گھر بہہ جانے سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے اب ان کے بچے بارش سے ڈرتے ہیں جب اسمان پر بادل اجاتے ہین تو ان کے گھرمیں خوف پیدا ہوتا ہے ۔

ناہید اختر نے یہ گلہ بھی کیا ہے کہ ابھی حکومت کے جانب سے جو امداد ملا ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے ، ان کو یہ خوف بھی ہے کہ مستقبل قریب میں انہیں دوبارہ سیلاب کا سامنا کرنا نہ پڑے تاہم انہوں نے حکومت اور دیگر اداروں سے اپیل کی کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کریں ۔

سیلاب سے نوجوان بھی مشکلات کا شکار

سوات کے علاقہ بحرین کے مضافاتی علاقہ جیل  سے تعلق رکھنے والا سیف الدین جوکہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان میں بی ایس الیکٹریکل انجینرنگ کا طالب علم ہے اور 2022 کے سیلاب میں ان کا گھر بھی سیلاب میں بہہ گیا ہے وہ کہتا ہے کہ ان کا گاوں مختلف قدرتی آفات کا شکار رہے ہیں ، وہ جس گاوں میں رہتا ہے وہاں 28 گھر آباد تھے تو جب 2010 کا سیلاب ایا تو میں یہ سارے گھر بہہ گئے تھے اور وہاں سے لوگ نقل مکانی کی پھر سیلاب کے بعد لوگوں کا خیال تھا کہ پھر سیلاب نہیں ائیگا تو لوگوں نے دوبارہ آباد کاری شروع کی تو 12 سال بعد دوبارہ سال 2022 میں سیلاب آگیا اور پھر سے وہ گاوں پانی میں بہہ گیا تو پھر سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ۔سیف کہتا ہے کہ لوگ بہت زیادہ مسائل کا شکار ہیں اور سیلاب سے ہوٹلز بھی تباہ ہوئے اور مقامی لوگ اس سے بے روزگار ہوگئے ۔وہ کہتا ہے کہ علاقے کے طلباء سیلاب سے ذہنی مریض بن گئے اور نوجوان پریشانی کا شکار ہیں ۔وہ کہتا ہے کہ وہ خود ٹینشن کا مریض بن گیا اور ان کی تعلیمی سلسلہ بھی خراب ہوگیا تھا ۔

  سال2022 میں سیلاب سے کتنا نقصان ہوا تھا ؟

معلومات تک رسائی ایکٹ کے تحت ضلعی انتظامیہ سوات کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اینڈ ہیومین رائٹس سے حاصل کے لئے معلومات کے مطابق سال 2022 کے تباہ کن سیلاب میں ضلع سوات میں 39 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے تھے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے 63056 گھروں کا سروے کیا گیا تھا جس میں 59521 گھروں کو نقصان پہنچ گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ  رابطہ پل اور کئی کلومیٹرز سڑکیں بھی سیلاب میں بہہ چکی ہے ۔

سیلاب سے ذراعت کو بھی نقصان ہوا

محکمہ ذراعت ضلع سوات سے معلومات تک رسائی ایکٹ 2019 کے تحت لے گئے ڈیٹا کے مطابق سوات میں ان کے پاس 1،84،748 ایکٹٓڑ ز زمین ہے اور 2022 کے سیلاب میں 19736 ایکڑز زرعی زمین متاثر ہوا ہے جبکہ 5380 ملین کا نقصان ہوا ہے ۔

ضلعی افیسر محکمہ زراعت ڈاکٹر جان محمد کے مطابق سوات میں سیلاب کے بعد 15400 بیگز گندم متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں جبکہ 6526 بوری ڈی اے پی یوریا بھی تقسیم کئے گئے ہیں ۔

سیلاب سے مچھیلوں کو بھی نقصان ہوا

محمکہ فشریزضلع سوات آفس سے لئے گئے ڈیٹا کے مطابق 2022 کے سیلاب میں 237 کے تعداد میں مچھلیوں کی ہچریاں سیلاب میں بہہ گئی ہے جس کا نقصان تقریبا 1369 ملین سے زائد کا ہوا ہےجس میں سب سے زیادہ سرکاری ہچری گورنمنٹ ٹراوٹ ہچری مدین کا 250ملین کا نقصان ہوا ہے ۔

اسسٹنٹ ڈائرکٹر یحیحی جعفر نے کہا کہ سیلاب میں بہہ جانے والے ہچریوں میں سرکاری ہچری کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے جبکہ تحصیل مٹہ اور بحرین کے علاقوں میں پرائیویٹ یعنی مقامی لوگوں کے ہچریاں بھی متاثر ہوئے ہیں جس سے ان کے ذریعہ معاش کو کافی نقصان ہوا ہے اور اب تک وہ ہچریاں بحال نہ ہوسکی ۔

سیلاب سے لائیو سٹاک کو بھی نقصان ہوا

معلومات تک رسائی ایکٹ کے تحت ضلع انتظامیہ ضلع سوات سے لئے گئے معلومات کے مطابق گزشتہ سال 2022 میں ائے ہوئے سیلاب میں 86 کے تعداد میں گائے ،21 بھینس ،15 بھیڑ ،18 بکریاں ،470 مختلف قسم کے پرندے ،3 گھوڑے اور 6 خچر شامل تھے جس کے مالیت کرڑوں میں تھے تا ہم یہ اعداد وشمار سرکاری ہے جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق یہ تعداد زیادہ ہے ۔

 سیلاب متاثرین کے لئے حکومتی امداد

ضلعی انتظامیہ سوات کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف آفس سے لی گئی ڈیٹا کے مطابق ضلع سوات میں سال 2022 کے سیلاب کے بعد حکومتی امداد کے لئے63056گھرانوں کا سروے کیا گیا جس میں59521 گھر متاثر تھے جبکہ ان میں سے55204گھروں کو اپروول مل گئی اور پھر48217 گھروں کے متاثر ہونے کی تصدیق کیا گیا جس کے لئے خیبر پختونخوا کے بینک آف خیبر کے ذریعے29334 بینک اکاونٹس کھول دئے ان میں سے19973 اکاونٹس کو ٹوٹل4902 ملین سے زائد روپے کے فنڈز سیلاب متاثرین کو فراہم کئے گئے ہیں ۔

[author title=”لکھاری سے متعلق” image=”https://lawpractitioners.org/wp-content/uploads/2023/11/WhatsApp-Image-2023-11-02-at-9.16.27-PM.jpeg”]وقار احمد کا تعلق ضلع سوات ہے انہوں نے ایم فل میڈیا اینڈ ماس کمینکیشن کیا ہوا ہے وہ گزشتہ چھ سالوں سے ماحولیات ،انتخابات اور دیگر موضوعات پر رپورٹنگ کررہے ہیں. X @WaqarAhmadSwati[/author]

Back to top button