انسانی حقوق

آزادی صحافت اور پاکستان

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر دی رپورٹرز کی جانب سے ایکس (ٹوئیٹر) اسپیس کا انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی دی رپورٹرز کی ایڈیٹر سعدیہ مظہر نے کی جبکہ اسپیس میں پاکستان پریس فاونڈیشن کی ڈائریکٹر ثناعلی، ٹرائبل نیوز نیٹ ورک کے ڈائریکٹر طیب آفریدی اور ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر سبوخ سید نے بطور اسپیکر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پاکستان پریس فاونڈیشن کی ڈائریکٹر ثنا علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال جنوری سے ستمبر تک صحافیوں کے تشدد، ہراسانی یا دھمکیوں کے 157 کے واقعات پیش آئے۔

پاکستان میں گزشتہ سال وفاق اور صوبہ سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کی گئی لیکن ان قوانین پر عمل درآمد کے لئے سنجیدہ اقدامات درکار ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ سیفٹی فار جرنلسٹس کمیشن نے آپ تک تین کیسز پر اپنی موقف جاری کیا ہے تاہم کمیشن کی ویب سائٹ اور ان کے پاس شکایت درج کرانے کا طریقہ کار طے کرنا ابھی باقی ہے۔ اسی طرح وفاق میں قانون تو بنالیا گیا تاہم اس پر عمل درآمد کے لئے ابھی کمیشن قائم کرنا باقی ہے۔ اسی طرح معلومات تک رسائی کے قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی بیشتر مسائل درپیش ہیں۔ خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن میں ممبران کی تقرری کا عمل طویل عرصے سے زیرالتوا ہیں، جبکہ بلوچستان میں قانون سازی کے باوجود انفارمیشن کمیشن کا قائم تاخیر کا شکار ہے۔

ٹرائبل نیوز نیٹ ورک کے ڈائریکٹر طیب آفریدی نے دی رپورٹرز کی ایکس سپیس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کسی بھی پرتشدد واقعہ کی صورت میں پولیس سے رابطہ کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے صحافیوں کے معاملات میں پولیس جانبدار رویئے اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لکی مروت میں ٹی این این کے رپورٹر نے جب مبینہ آٹا چوری کے حوالے سے رپورٹ کی تو پولیس نے رپورٹر کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کی اور اس کے بعد وہ رپورٹر عدالت کے چکر لگانے پر مجبور ہو گیا۔

طیب آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں کمی کی بڑی وجہ سیلف سنسرشپ ہے، صحافیوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ کوئی مسلہ پیش آنے کی صورت میں کوئی بھی ادارہ ان کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا، اس سیلف سینسرشپ کی وجہ لیکن اپنی حفاظت کے لئے صحافی سیلف سینسرشپ کو فوقیت دیتے ہیں۔

ڈی جی میپ کے صدر سبوخ سید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا اس دن کے موقع پر آزادی اظہار رائے کا جشن مناتے ہیں تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اس دن کے موقع پر احتجاج کئے جاتے ہیں۔ ہم ایک ایسی فضا میں رہ رہے ہیں جہاں بات کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے مزاحمت کرنی ہے اور اپنے صحافت کے آذادی کے لئے اپنی جدودجہد جاری رکھنا ہوگی۔

اسپیس سیشن کی میزبان سعدیہ مظہر کا کہنا تھا کہ معلومات تک رسائی کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے معلومات کا حصول اور ان پر سٹوری کرنے کو آسان سمجھا جاتا تھا تاہم اب ان قوانین کے تحت درخواست بھیجنے پر بھی خواتین کو نہ دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صحافیوں کے لئے حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید مشکل ہوتے جارہے ہیں ایسے میں ضروری ہے کہ صحافی، صحافتی تنظیمیں اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے سماجی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں اور آزادی صحافت کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں۔

 

 

 

 

Back to top button