انسانی حقوق

خاتون کا قتل، تین سالہ عدالتی جدوجہد اور دو بچوں کا مستقبل

سوات میں خاتون کے قتل کے مقدمے میں شوہر کو سزائے موت، لیکن پیچھے رہ جانے والے بچوں کی زندگی کیسے بدلے گی؟

سوات کے ایک گھر میں یہ ایک عام دن نہیں تھا۔ 5 ستمبر 2023 کی صبح ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ایک خاندان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ ایک خاتون کو ان کے سابق شوہر نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اس وقت ان کا کم عمر بیٹا بھی وہاں موجود تھا۔ ماں کی موت کے بعد دو بچوں کی زندگی سے نہ صرف ایک اہم سہارا چھن گیا بلکہ ان کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات بھی جنم لینے لگے۔

یہ خاتون اپنے بچوں کی بہتر تعلیم اور پرورش کے لیے محنت مزدوری کرتی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے بچے اچھے اسکول میں تعلیم حاصل کریں اور ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ لیکن ان کی زندگی کا اختتام ایک ایسے تنازع کے دوران ہوا جس کا تعلق بچوں کے اخراجات اور سابق شوہر کے ساتھ قانونی معاملات سے تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بنچ کے وکیل جگر شیر کے مطابق، خاتون کے شوہر کے ساتھ بچوں کے اخراجات، علاج معالجے اور عدت کے خرچ سے متعلق معاملات عدالت میں زیرِ سماعت رہے تھے۔ عدالت نے شوہر کو یہ اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بنچ کے وکیل جگر شیر

جگر شیر کے مطابق، واقعے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ملزم نے مبینہ طور پر خاتون سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت میں بیان دیں کہ انہیں تمام رقم مل چکی ہے اور اب انہیں مزید کسی ادائیگی کی ضرورت نہیں۔ اس معاملے پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد خاتون کو قتل کر دیا گیا۔

ایک تصویر جس نے وکیل کو مقدمہ لینے پر آمادہ کیا

جگر شیر کہتے ہیں کہ جب انہیں اس واقعے کی اطلاع ملی تو سوشل میڈیا پر ایک کم عمر بچے کی اپنی والدہ کی لاش کے قریب موجودگی کی تصویر گردش کر رہی تھی۔ اس تصویر نے انہیں اس مقدمے میں قانونی معاونت فراہم کرنے پر آمادہ کیا۔

وہ دوہزار گیارہ سے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے وابستہ ہیں اور پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بنچ میں وکالت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، مقتولہ کے خاندان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ طویل عدالتی کارروائی کا خرچ برداشت کر سکے۔ خاندان کو قانونی طریقہ کار سے متعلق معلومات بھی محدود تھیں۔

انہوں نے اس مقدمے کی پیروی کی اور تقریباً تین سال کی قانونی جدوجہد کے بعد عدالت نے ملزم کو سزائے موت سنائی۔

ماں کے بعد بچوں کی زندگی

خاتون کے قتل کے بعد ان کے دونوں بچے اپنے ماموں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ جگر شیر کے مطابق، ماموں نے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے اور انہیں اپنے بچوں کی طرح پال رہے ہیں۔ پروارش اسکول کی جانب سے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بعض مخیر افراد نے بھی ان کی مدد کی ہے۔

تاہم، بچوں کی زندگی میں ماں کی عدم موجودگی ایک ایسا خلا ہے جسے مالی معاونت یا تعلیمی سہولت سے مکمل طور پر پُر نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص ایسے بچے جنہوں نے اپنی والدہ کو تشدد کے نتیجے میں کھویا ہو، انہیں جذباتی اور نفسیاتی معاونت کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کا اثر صرف متاثرہ خاتون تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات بچوں، خاندان اور آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

انصاف صرف سزا کا نام نہیں

خواتین کے قتل کے مقدمات میں عموماً توجہ ملزم، جرم اور عدالتی فیصلے پر مرکوز رہتی ہے۔ لیکن ایسے واقعات کے بعد پیچھے رہ جانے والے بچوں کی تعلیم، حفاظت، کفالت اور نفسیاتی بحالی کے سوالات بھی اہم ہیں۔

کیا ایسے بچوں کے لیے کوئی مؤثر سرکاری یا سماجی نظام موجود ہے جو انہیں تعلیم کے ساتھ نفسیاتی معاونت بھی فراہم کرے؟ کیا ان کے سرپرستوں کو قانونی اور مالی مدد ملتی ہے؟ اور کیا ریاستی ادارے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ تشدد سے متاثرہ بچوں کا مستقبل مزید مشکلات کا شکار نہ ہو؟

سوات کا یہ مقدمہ عدالتی انصاف کی ایک اہم مثال ضرور بن سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی چھوڑ جاتا ہے کہ ایک خاتون کے قتل کے بعد ان کے بچوں کی زندگی کو محفوظ اور بہتر بنانے کی ذمہ داری کس کی ہے۔

انصاف کا تقاضا صرف مجرم کو سزا دلوانا نہیں بلکہ متاثرہ خاندان کو تحفظ، معاونت اور باوقار زندگی کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔

وقار احمد

وقار احمد

وقار احمد کا تعلق سوات سے ہے اور وہ گزشتہ کئی سالوں سے موسمیاتی تبدیلی ، انسانی حقوق اور الیکشن پر کام کرتے ہیں
Back to top button