Blog

کوئٹہ، بنجر پہاڑوں مگر زرخیز دلوں کی زمین

آسمان کی بلندی سے نیچے دیکھنے پر یوں محسوس ہوتا تھا گویا قحط کا سماعت ہے نیچے۔ قحط صرف خوراک کا تو نہیں ہوتا، قحط تو تعلقات کا بھی یوتا ہے مسکراہٹوں کا اور ہریالی کا۔ اس شہر کے بنجر پہاڑ چیخ چیخ کر اپنے قحط زدہ ہونے کی کہانی بیان کر رہے تھے۔ کوئٹہ ائیر پورٹ پر پہنچ کر دل کی دھڑکن مزید تیز ہوئی،  گھبراہٹ بڑھ رہی تھی کہ نا جانے اس نئ زمین میں بسنے والے نئے چہرے،  دوسری جگہ سے آنے والوں کو قبول بھی کرینگے یا نہیں۔

مقامی ہوٹل کا خوبصورت منظر

مطلوبہ ہوٹل کے ڈرائیور پہلے سے ائیر پورٹ پر موجود تھے. حسب عادت وردی میں ملبوس نام کا کارڈ پکڑے صاحب کو تلاش کرنا شروع کیا تھا کہ اچانک میرے دائیں جانب سے شلوار قمیض میں ملبوس ، کندھے پر رومال رکھے ، ہاتھ میں تسبیح پکڑے مسکراتے ہوئے ایک بزرگ نمودار ہوے اور بیٹی کہہ کر مخاطب کرکے شناسائی کی بہت سی منازل بآسانی تہہ کرتے چلے گئے۔

 

 

شہر سے کچھ تعارف انہوں نے کروا دیا اور دوسرا تعارف نعیمہ زہری نے کروایا۔ دھیمے لہجے کی کوئٹہ کی زمین کی اس بیٹی نے بڑی محبت سے بلوچ دکانداروں سے بھاو تاو کرکے ہمیں کوئٹہ کے بازار دکھائے۔ گو ماحول مختلف تھا، موسم مختکف، زبان مختلف اور کھانا بھی مگر پھر اس نئے پن میں پرانی صرف بلوچستان سے محبت تھی جس نے اس زمین سے شناسائی کی جانب مزید قدم بڑھانے کا حوصلہ دیا۔

 

کوئٹہ شہر کو ، شہر کے درمیان میں کھڑے ہو کر دیکھیں تو لگتا ہے یہ بنجر پہاڑ ، اپنی ویرانی اور عدم توجہی کا گلہ خراب رہے ہیں۔ تبھی محسوس ہوا کہ شائد یہ ہی گلہ ہمارے کوئٹہ کے رہنے والے بھی ہم پنجاب والوں سے رکھتے ہوں۔ مگر یہ صرف گمان تھا۔

سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کے ہمراہ

ایک نئ جگہ رہنا میرے لیے بہت مشکل رہا ہے اور ایسے میں ندیم نے نا صرف پنجاب کی بریانی کھلائی بلکہ کوئٹہ کے کچھ زرخیز ذہنوں سے بھی ملوایا۔ ان سے مل کر اور گفتگو کرکے احساس ہوا کہ صرف علاقے مختلف لیکن نظریہ اور سوچ ہم ایک سی ہی رکھتے ہیں۔ مالک صاحب سے اجازت چاہی تو کہنے لگے آپ ہمارے مہمان ہیں اس لیے کھانا کھانے  بغیر واپسی ہماری مہمان نوازی پر سوالیہ نشان چھوڑ جائے گی۔  بھوک نا یونس کے باوجود کیا پرلطف کھانا تھا جس کی خوشبو نے خودبخود مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔

کوئٹہ کا آخری دن مشکل تھا کیونکہ فلائٹ کینسل ہو گئ تھی ۔ پنجاب کے چیف انفارمیشن کمیشنر محبوب قادر شاہ صاحب کا شکریہ کہ بروقت اسلام آباد کی فلائٹ کا انتظام بھی کر دیا اور رات ڈنر کی دعوت بھی دے دی۔ بظاہر یہ ڈنر بیوروکریسی اور جیوڈیشری کا تھا ، مجھے اپنا آپ بہت ان فٹ لگا۔ مجھے زندگی کو عام انداز سے گزارنے کا لطف آتا ہے ۔ لیکن گفتگو کا سلسلہ چلا تو جو محفل رات دس بجے اختتام کی طرف جا رہی تھی وہ رات ایک بجے تک قہقہوں اور قصوں کے ساتھ جاری رہی۔ مجھے اس روز شدت سے یہ محسوس ہوا کہ بلوچ محبتوں کے آمین لوگ ہیں۔ جہاں جہاں مجھے پنجابی کے طور پہچانتے رہے مہمان نوازی کی چادریں بجھاتے رہے۔

Back to top button