انسانی حقوق

پاکستان میں سیاسی، معاشی بے چینی سے انسانی حقوق بھی شدید متاثر، رپورٹ

عصمت جبیں

پاکستان میں گزشتہ برس کے دوران سیاسی اور اقتصادی بے چینی کے ماحول نے ملک میں انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال کو بھی بری طرح متاثر کیا۔

یہ بات پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے اپنی اس تازہ سالانہ رپورٹ میں کہی، جس میں انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال پر مرتب ہونے والے شدید اثرات پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے سال 2022ء کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر اسلام آباد میں بتایا کہ گزشتہ برس نہ صرف ملک میں حقوق انسانی کی صورت حال گہری تشویش کا باعث بنی بلکہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومتیں پارلیمانی بالا دستی کو یقینی بنانے میں بھی ناکام رہیں۔

ایچ آر سی پی کی اس نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پارلیمان کی بالا دستی کے احترام کو یقینی بنانے میں حکومتی ناکامی کے علاوہ گزشتہ برس یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اراکین پارلیمان، انتظامیہ اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین کشمکش اور رسہ کشی کے ماحول سے اعلیٰ ریاستی اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چیئر پرسن حنا جیلانی نے اپنے ادارے کی سالانہ رپورٹ برائے 2022ء جاری کرتے ہوئے مزید کہا کہ گزشتہ برس بھی ملک میں مخالفین اور ناقدین کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے کا سلسلہ نہ صرف سال بھر جاری رہا بلکہ سماجی سطح پر زیادہ تر برسراقتدار حلقوں کی طرف سے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے نوآبادیاتی دور کے قوانین کا سہارا بھی لیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا جن میں پانچ سو ترپن افراد جان سے گئے۔ ایسے واقعات کی تعداد گذشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ تھی جبکہ حکومت عسکریت پسندی کے خاتمے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی رہی۔

حنا جیلانی نے خاص طور پر بلوچستان میں جبری گمشدگی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ قومی اسمبلی نے ایک بل منظور کر کے جبری گمشدگی کو جرم قرار دیا تھا اب تک دو ہزار دو سو دس کیس حل نہیں ہو سکے ہیں۔

رپورٹ کے اجرا کے موقع پر ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق نے کہا کہ پاکستان میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کے خلاف بڑھتے ہوئے خطرات ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اگرچہ توہین مذہب کے الزامات سے متعلق پولیس رپورٹوں میں کمی آئی ہے تاہم ہجوم کے ہاتھوں ہلاکتوں میں بظاہر اضافہ ہوا ہے۔ احمدی برادری خاص طور سے حملوں کی زد میں رہی اور خصوصا پنجاب میں کئی عبادت گاہوں اور نوے سے زائد قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔

انہوں نے مذید کہا کہ خواتین کے خلاف تششدد بلا روک ٹوک جاری رہا اور جنسی زیادتی اور اجتماعی جنسی زیادتی کے کم ازکم چارہزار دو س چھبیس واقعات پیش آئے جبکہ مجرموں کے لیے سزا کا تناسب مایوس کن حد تک کم رہا۔ حارث کے مطابق اس رپورٹ میں ایچ آر سی پی نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کئی دیگر پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن خصوصا بیواوں پر بڑے پیمانے پر چودہ ریسرچ اسٹڈیز کروا رہا ہے جو مئی میں مکمل ہو جائیں گی اور جون میں اس حوالے سے ایک نیشنل کنفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔

کل جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق رواں سال انیس خواجہ سراوں کو قتل کیا گیا۔ پاکستان میں ترقیاتی شعبے سے وابستہ اور حقوق نسواں خاص طور سے ٹرانس جینڈر کے لیے بہت کام کرنے والی سیدہ مجیبہ بتول نے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے پیش کی گئی اس رپورٹ کو سراہتے ہوئے دی رپورٹرز کو بتایا، "ٹرانس جینڈر کمیونٹی تو ویسے ہی معاشرے سے خارج ہے اور یہ جو حالیہ پرتششدد کاروائیوں کا بڑھتا ہوا رجحان دکھائی دے رہا ہے اس کی وجہ خواجہ سرا ایکٹ دوہزار اٹھارہ ہے جو قدامت پسندوں کی شدید تنقید کی زد میں رہا۔ مذہبی علماء کی انتہا پسندانہ سوچ کے پیش نظر خیبر پختونخونخواہ میں شدید ردعمل نظر آیا جہاں نہ صرف ٹرانس جینڈر کو زدوکوب کیا گیا بلکہ کئی کو قتل بھی کیا گیا۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے ک جب ایک مخصوص بااثر طبقہ جس کی لوگ بات مانتے ہیں،تقلید کرتے ہیں جھوٹا پراپرگینڈہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں اقلیتوں اور خواجہ سراوں کی جان کوخطرہ مذید بڑھ جاتا ہے۔ حکومت خوجہ سرا ایکٹ دوہزار اٹھارہ کے ذریعے انہیں تحفظ فراہم کرنا چاہتی تھی لیکن مذہبی علما کے احتجاج کے باعث خواجہ سرا اب مذید خطرے میں ہیں۔”

خواجہ سرا افراد کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک جو اس رپورٹ کا موضوع بھی ہے کے حوالے سے ہم نے بات کی ٹرانسجینڈر ایکٹوسٹ نایاب علی سے تو انہوں نے دی رپورٹرز کو بتایا، "ایچ آر سی پی کی رپورٹ کا موضوع دیکھ کراندازہ ہو جاتا ہے کہ سول سوسائٹی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کتنی آزادنہ آواز اٹھا سکتی ہے۔ اس سال کی رپورٹ میں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کی اس سال کا تھیم ٹرانسجینڈر رکھا گیا جس سے نہ صرف ٹرانسجینڈر افراد پر ہونے والے مظالم احکام بالا تک پہنچیں گے بلکہ عوام میں اس بحث کا آغاز بھی ہو گا کہ ٹرانسجینڈر بھی انسان ہیں۔”

انہوں نے مذید کہا، "وہ سمجھتی ہیں کہ جو ڈیٹا اس رپورٹ میں پیش کیا گیا وہ کسی حد تک سینیٹائزڈ ہے جبکہ حقائق کو ایک شوگر کوٹڈ انداز میں پیش کیا گیا ہے جس میں حکومتی اقدامات کو زیادہ پزیرائی دی گئی۔ حالانکہ حالات اس سے زیادہ خطرناک ہیں۔ ملک میں ٹرانسجینڈر افراد کے خلاف جہاد کےنام پر نسل کشی کی جا رہی ہے، ایوانوں میں ٹرانسجینڈر افراد کو غلیظ مخلوق کہا جا رہا ہے، ملک گیر مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور ٹرانسجینڈر ایکٹوسٹس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ریاست اقوام متحدہ کے مندوبین کے خطوط کا جواب دینے سے یکسر قاصر ہے جو کہ گزشتہ سال میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی حفاظت پر لکھے گیے۔ ٹرانسجینڈر ایکٹوسٹس ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں لیکن یہ سب حقائق اس رپورٹ میں نہیں ہیں لیکن بہرحال پھر بھی ایچ آر سی پی کی کاوش اچھی ہے۔

اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے خاص طور سے احمدیوں کے ساتھ۔ اس رپورٹ کے بارے میں ایک احمدی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی رپورٹرز کو بتایا، ” یہ جو ہر سال ایک رپورٹ جاری کر دی جاتی ہے اس سے ہمیں کیا فائدہ ؟ کیا ہمارے ساتھ ہونے والے مظالم کا مداوا ممکن ہےِ؟ ہم تو ڈرے سہمے رہتے ہیں اپنی شناخت بھی چھپا کر رکھتے ہیں کہ ظاپر ہونے کی صورت میں کبھی بھی کوئی جھوٹا الزام لگا کر مروا سکتا ہے۔ رپورٹ کا اجرا اچھی بات ہے لیکن اصل مسئلہ قانون اور قاعدے پر عملدرآمد کا ہے۔”

 

انسانی حقوق کمیشن کی اس رپورٹ میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر ریاست کو سیاست، قانون اور نظم ونسق کے حوالے سے ایک عوام دوست حکمت عملی کی جانب بڑھنا ہے تو اسے ان مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔

Back to top button