سیاحت

کراچی چڑیا گھر میں جانوروں کو خوراک کی قلت کا سامنا

ٹھیکیداروں کے نے  بلوں کی عدم ادائیگی پر 21 مارچ سے چڑیا گھر کو خوراک کی فراہمی بند کر دی ہے۔  

کراچی کے چڑیا گھر میں انتظامیہ اور ٹھیکیدار کے درمیان بلوں کی عدم ادائیگی کے تنازع کے مناسب جانوروں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

جانوروں کی خوراک کی فراہمی کے ذمہ دار ٹھیکیداروں کے نے  بلوں کی عدم ادائیگی پر 21 مارچ سے چڑیا گھر کو خوراک کی فراہمی بند کر دی ہے۔

کراچی میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کو 23 مارچ کو لکھے گئے خط میں کنٹریکٹرز بلال کنسٹرکشن کمپنی اینڈ جنرل سپلائرز اینڈ محمود انٹرپرائزز نے چڑیا گھر کے سینئر ڈائریکٹر خالد ہاشمی پر ان سے بھتہ لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

کنٹریکٹرز بلوں کی ادائیگی کے لیے بالترتیب 3 کروڑ 46 لاکھ اور 82 لاکھ روپے کی ادائیگی کا مطالبہ  کر رہے ہیں اور اب ادھار پر کھانا فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق21 مارچ کو ٹھیکیداروں نے خوراک کی فراہمی معطل کردی اور جانوروں کو مناسب خوراک کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔

چڑیا گھر کے رکھوالے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خوراک کی کمی کے بارے میں خبریں درست ہیں، کیونکہ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی غذا کے ڈائٹ پلان کے مطابق جانوروں کو خوراک فراہم کریں، لیکن خوراک کا معیار اور مقدار پریشانی کا باعث رہی ہے۔

چڑیا گھر کے سینئر ڈائریکٹر خالد ہاشمی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ جانوروں کو مناسب طریقے سے کھلایا جا رہا ہے۔ تاہم چڑیا گھر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے فنانس ڈپارٹمنٹ کو بلوں کی ادائیگی کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

کراچی چڑیا گھر کو حالیہ مہینوں میں کئی دیگر بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے متعدد جانوروں اور پرندوں کی موت بھی شامل ہے۔

Back to top button