انسانی حقوقخبریں

ریاست قبائلی طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی:علی وزیر

اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے کہا ہے کہ ریاست قبائلی طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی، قبائلی علاقوں کو دہشت گردی سے پاک کردیا گیا ہے تو پھر کیوں ان علاقوں کو ملک کے دوسرے حصوں کی طرح تھری جی اور فور جی کی سہولت نہیں دی جارہی۔ آن لائن کلاسز میں تو پنجاب کے طلباء کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔ طلباء آئین پاکستان کے تحت اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔

انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے لئے بدھ کے روز نیشنل پریس کلب کے سامنے قبائلی اضلاع کے طالب علموں کی جانب سے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے وہئے علی وزیر نے کہا کہ قبائل میں سول انتظامیہ کو ابھی تک بحال کیوں نہیں کیا جا ر،ہابازاروں کو تو کھول دیا گیا مگر تعلیمی اداروں کو نہیں کھولا جا رہا، یہ حکومت طلبہ کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتی ہے، اسمبلی فلور پر آواز بھی بلند کریں گے اور احتجاج بھی کریں گے۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ کورونا جیسے سخت حالات کے باوجود احتجاج طلبہ احتجاج پر مجبور ہیں، ریاست کی بے حسی نے ان کو مجبور کیا ہے کہ وہ احتجاج کریں حکومت کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت شہریوں کو فراہم کرنا کوئی بڑا مسلہ نہیں،اسمبلی میں اس ایشو کو دو سال سے اٹھارہے ہیں،وزراء کے اس پر ردعمل انتہائی شرمناک ہیں۔

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ ہماری بے بسی کا مذاق اڑایا جاتا ہے،کورونا پر جاری قومی اسمبلی کے اجلاس میں بار بار کہا گیا کہ جن علاقوں میں انٹرنیٹ سروس نہیں وہاں آن لائن کلاسز مشکل ہیں،سینٹ میں پہلے ہی یہ ایشو اٹھا یا گیا ہے، اسمبلی میں پھر اس ایشو کو اٹھائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت قبائل میں کس بات سے ڈر رہی ہے،قبائل میں جو عمل ہو رہے ہیں ان کو انٹرنیٹ سروس نہ بھی ہو تو دنیا تک پہنچی رہی ہے،آن لائن کلاسز کو بند کیا جائے،ریاست قبائل اور وفاق کے لیے دو قانون کا نفاذ کررہی ہے، دوہرے معیار کی شدید مذمت کرتے ہیں،طلباء کو ہروموٹ کیا جائے۔

طلبہ رہنما سید محمد کاظمی۔نے کہا کہ کیا قبائلی طلباء پاکستانی نہیں؟ کیا ان طلباء کا حق نہیں ہے کہ وہ بھی تعلیم حاصل کر سکیں؟ہمارے قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے تو ہم کیسے آن لائن کلسسز لے سکتے ہیں یا ہم کس طرح آن لائن پیپر دے سکتے ہیں۔

سید محمد کاظمی کا کہنا تھا کہ کہا کہ وفاق میں بیٹھے طلبا کو بھی آن لائن کلاسسز میں مشکلات درپیش ہیں،و ہمارے پاس تو یہ سہولت میسر ہی نہیں ہے،ہمارا ایچ ای سی کے چیئرمین مین سے مطالبہ ہے کہ ایچ ای سی ہزاروں قبائیلی طلباء وطالبات کا کا مستقبل بچا کر انٹرنیٹ کی بحالی تک آن لائن کلاسسز منسوخ کرے اور قبائیلی اضلاع میں 3G اور 4G انٹرنیٹ سروس کو بحال کیا جائے شرکا نے ایچ ای سی اور پی ٹی اے کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

طلبہ نے اس موقع پر پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے،جن پر قبائلی اضلاع میں 3Gاور 4Gکی فراہمی کے حق اور آن لائن کلاسز کو بند کرنے کے نعرے درج تھے، شرکاء قبائلی اضلاع کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا پر زور مطالبہ کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button