خبریں

افغانستان میں طالبان کی حکمرانی، خیبرپختونخوا کے صحافی تشویش میں مبتلا

صحافیوں کے تحفظ کےلئے موثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث پاکستان صحافیوں کے لئے غیرمحفوظ ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جہاں فرائض کی ادائیگی کے دوران درجنوں صحافی جان گنوا چکے ہیں۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کی رپورٹ کے مطابق 1990 سے اب تک پاکستان میں 138 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے، آئی سی جے کی جانب سے جاری کردی وائٹ پیپر آف آن گلوبل جرنلزم کے مطابق پاکستان پانچ خطرناک ممالک کی صف میں شامل ہیں جن میں عراق،میکسیکو،فیلپین اور بھارت بھی موجود ہیں۔

اس حوالے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزادہ ذوالفقار کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں صحافیوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا  گیا ہے کہ پہلے ہی سے متعدد صحافی مارے جا چکے ہیں  ، ابھی تک ایک بھی معاملہ حل نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا۔

پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذولفقار نے کہا کہ طالبان کیجانب سے نئی ملنے والی دھمکی نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ” ہمیں دونوں طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پی ایف یو جے کی جانب سے مجوزہ صحافیوں کے تحفظ اور تحفظ کے بل کو دی گئی تمام تجاویز قبول کریں”

انہوں نےکہا کہ ہم نے تجویز دی ہے کہ میڈیا مالکان تمام ملازمین کو بالخصوص تنازعہ والے علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو زندگی کی انشورنس فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے۔

"میڈیا مالکان کو چاہیے کہ وہ تنازعات والے علاقوں میں کام کرنے والوں کو حفاظتی سامان بھی فراہم کریں اور اس طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے انہیں خصوصی تربیت بھی فراہم کریں”

پی ایف یو جے کے صدر اور سیکرٹری جنرل نے قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پی ایف یو جے کی جانب سے مجوزہ بل میں تجویز کردہ ترامیم پر سنجیدگی سے غور کرے تاکہ اسے مزید موثر بنایا جا سکے”

حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک طالبان کیجانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک بیان میں اس کے ترجمان محمد خراسانی نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ میڈیا کوریج کی نگرانی کر رہے ہیں ۔انہوں نے میڈیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے خلاف "دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال نہ کریں ورنہ ان کے ساتھ بھی "دشمن” جیسا سلوک کیا جائے گا۔

پاکستانی میڈیا نے ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر حوالہ دینا تب شروع کیا تھا جب اس نے متعدد حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا اور حکومت نے اس پر پابندی عائد کردی تھی۔

ماضی میں صحافیوں کو شرپسند عناصر کی جانب سے درپیش خطرات اور موجود صورتحال کے حوالے سے سوات سے تعلق رکھنے والے صحافی عیسی خان خیل کا کہنا ہے کہ  سوات میں بھی جب حالات خراب تھے تو شدت پسندی کے دوران میرے بھائی موسی خانخیل کو بھی رپورٹنگ کے دوران 18 فروری 2009 کو فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا تھا۔

عیسی خانخیل جو کہ آج کل خود سوات میں صحافت سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ سوات میں جاری شدت پسندی کے دوران رپورٹنگ کرنا بہت مشکل ہوتا تھا مگر تمام خطرات کے باوجود اپنے فرائض انجام دئے ” ہمیں بہت زیادہ دھمکیاں ملتی تھی جبکہ میرے بھائی کو بےدردی سے شہید بھی کیا گیا، وہ وقت آج بھی مجھے یاد ہے”

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق 2002ء سے لے کر 2009ء تک صحافیوں پر تشدد کے 699 واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں 48 صحافیوں کا قتل ہوا، 24 صحافیوں کو دوران ڈیوٹی قتل کیا گیا۔ اسی طرح 2018ء تک 72 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں، دیگر واقعات میں اغوا، تشدد، صحافیوں کو دھمکانے اور اُن پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں۔ وادی سوات میں 1999 سے لے کر  2009 تک ایسے 12 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں چار صحافیوں کا قتل بھی شامل ہیں۔

ٹی ٹی پی عسکریت پسند تنظیم کو 2007 میں تشکیل دیا گیا تھا اور وفاقی حکومت نے اسے اگست 2008 میں ایک کالعدم تنظیم قرار دیا تھا اور میڈیا کو 2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے زریعے عسکریت پسندوں کی تسبیح سے روکا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف فاٹا اور خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں 30 کے قریب صحافی مارے گئےہےکچھ معاملات میں میڈیا کے خاندان کے افراد کو یا تو قتل کر دیا گیا یا ان کے آبائی علاقوں کو چھوڑنے کی دھمکی دی گئی۔

یہ واضح نہیں ہے کہ وہ یا ان میں سے کچھ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے ، کیونکہ تقریبا تمام مجرموں کو کبھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔

اس حوالے سے خیبر یونین آف جرنلسٹ کے صدر فدا خٹک کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں گزشتہ بیس سال کے دوران جاری جنگ کے نتیجے میں صحافی بہت متاثر ہوئے،درجنوں صحافیوں کو قتل کیا گیا اور بہت سے بے گھر بھی ہوئے،” حالانکہ فوجی آپریشن کے باعث خطرات تھوڑے کم ہوئے ہیں لیکن اب بھی مختلف تنظیموں اور ریاستی اداروں کی جانب سے صحافیوں کے لئے خطرات برقرار ہے، ہمارے معاشرے میں اب بھی قبائلی نظام موجود ہیں جس میں بہت سے قبیلوں اور اشخاص کی وجہ سے صحافی اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کرپاتے”

انہوں نے کہا کہ پشاور پریس کلب دنیا کا واحد پریس کلب ہے جہاں پر خودکش دھماکہ ہوا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ خطہ صحافیوں کے لئے کتنا خطرناک ہے، آج بھی مختلف تنظیموں اور ریاستی اداروں کی جانب سے صحافیوں کو نادیدہ عناصر کی جانب سے خطرات لاحق ہیں۔” تحریک انصاف کی تین سالہ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں آٹھ سالہ حکومت کے دوران سیکڑوں صحافی بے روزگار ہوگئے، ان کی تنخواہیں یا تو ختم کی گئی یا ان تنخواہوں میں کم کردی گئی جس کی وجہ سے بھی صحافی برادری شدید مالی مشکلات اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں”

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران صوبہ بھر میں چار صحافیوں کو قتل کیا گیا اور حالیہ دنوں میں تحریک طالبان کی جانب سے ایک دھمکی بھی ملی ہے جس سے اب دوبارہ صحافیوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لئے نا ہی حکومت اور نا ہی کسی اور تنظیم نے کوئی خاص اقدامات اُٹھائے ہیں” صحافیوں کو سٹیٹ ایکٹرز اور نان سٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں شدید قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔

سوات سے تعلق رکھنے والے رحمت علی نے مزید بتایا کہ مقامی صحافیوں کو بہت سے خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے کیونکہ ماضی میں بھی سوات میں بہت سے صحافیوں کو مارا یا اغوا کیا گیا ہے اس کی دردناک تصویر آج بھی صحافیوں کے سینوں میں محفوظ ہیں اور خوفناک منظر شہید موسی خانخیل کی صورت میں دیکھا تھا جو ہمارے آنکھوں کے سامنے پیش آیا تھا اسطرح کے اور بہت زیادہ صحافیوں کی داستان پڑی ہیں جو کہ مقامی صحافیوں کے ساتھ اندوہناک واقعات پیش آئے تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے وابستہ صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا تقاضہ ہے کہ صحافی خود سے کسی کو دہشت گرد یا شہید نہ لکھے ، اور عموما ایسا ہی ہوتا ہے، صحافی حکومت یا اداروں کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہی کسی فرد یا تنظیم کی حیثیت کو رپورٹ کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مثال کے طور پر اگر حکومت یا کسی سرکاری ادارے کی جانب سے پریس کانفرنس یا پریس ریلیز میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "آپریشن میں اتنے دہشتگرد مارے گئے” تو صحافی اس کو اسی طرح رپورٹ کرے گا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی میڈیا میں تحریک طالبان پاکستان سمیت کسی بھی تنظیم کو خبر میں براہ راست دہشتگرد نہیں لکھا جاتا ، البتہ ایسی تنظیموں کےلئے کالعدم کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جو قانونی و صحافتی نقطہ نگاہ سے درست ہے کیونکہ حکومت نے باضابطہ طور پر انہیں کالعدم ڈیکلیئر کیا ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے طرف سے تریٹ لیٹر جاری ہونے کے بعد یقیناً صحافیوں میں خدشات بڑھ گئے ہے لیکن یہ صحافی اور ادارے کے اوپر ہے کہ ٹی ٹی پی یا دوسرے کسی تنظیم کو بڑھا چڑھا کر دہشتگرد لکھا/ بولا جاتا ہے یا حکومتی ریاستی اعلان کردہ اعلامیے کو فالو کرتا ہے۔اب اگر اس کے بعد ٹی ٹی پی یا کوئی دوسرا تنظیم صحافیوں کو براہ راست ٹارگٹ کرتا ہے تو اس طرح کے واقعات پہلے بھی یہاں پر واقعہ ہو چکے ہے جس میں صحافیوں کو یا تو تریٹ کیا گیا ہے یا ان کو ہدف بھی بنایا جا چکا ہے۔

انہوں نے صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے مزید بتایا کہ حکومتی سطح پر قوانین لانے کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے مگر اس کو عمل میں نہیں لایا جاتا اس طرح پاکستانی میڈیا میں بلخصوص صحافیوں کے تحفظ کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں دیکھے جاتے اور صحافیوں کے حقوق کے لئے مختلف صحافتی تنظیمیں بھی احتجاج اور اپنے خدشات کا اظہار ہی کرتے ہیں۔

پاکستان بالعموم اور خیبر پختونخوا بالخصوص صحافیوں کے لئے خطرناک ترین بن گیا ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری  خطرات اور تحفظات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث بیشتر صحافیوں نے صحافت کو خیر باہ بھی کہہ دیا ہے۔

 

Back to top button