خبریں

پاکستان نے کورونا ویکسین ٹرائلز سے کتنی دولت کمائی؟ افواہیں اور حقائق

پاکستان میں جیسے ہی کورونا سے تحفظ کی ویکسین عام افراد کو لگانے کا سلسلہ شروع ہوا تو قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) میجر جنرل عامر اکرام نے بتایا تھا کہ حکومت نے چین کی صرف ایک کورونا ویکسین ٹرائل سے ایک کروڑ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کی کمائی کی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ حکومت پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ چین کی ویکسین کین سائنو کے ٹرائلز کے تیسرے مرحلے سے ایک کروڑ ڈالر کمائے تھے۔

میجر جنرل عامر اکرام کے بیان کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچ گیا تھا اور لوگوں نے سوالات اٹھانے شروع کیے کہ صرف ٹرائلز سے اتنی دولت کمائی گئی تو پھر عام عوام میں ویکسین لگوانے کے فیصلے سے حکومت نے کتنے پیسے کمائے ہوں گے؟

کورونا ویکسین سے متعلق پہلے ہی پاکستان میں افواہیں پھیل رہی تھیں، اوپر سے میجر جنرل عامر اکرام کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور لوگوں کو اپنی قیاس آرائیوں کو سچ ثابت کرنے کا موقع مل گیا۔

اگرچہ قومی میڈیا نے کورونا کی وبا اور ویکسین پر پھیلنے والی دیگر افواہوں کی طرح میجر جنرل عامر اکرام کے بیان کے بعد شروع ہونے والی افواہوں پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ رپورٹس شائع نہیں کیں۔

تاہم اس کے باوجود سوشل میڈیا پر کئی دن تک لوگ اس مسئلے پر بحث کرتے دکھائی دیے کہ حکومت نے نہ صرف کورونا ویکسین ٹرائل سے اربوں ڈالر کمائے بلکہ اب وہ عوام کو ویکسین لگاکر اس سے بھی ڈالرز کمانے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔

ایسی افواہوں سے یقینا ویکسین کے مخالفین اور سازشی عناصر کو مزید قیاس آرائیاں پھیلانے میں آسانی ملی، تاہم حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے ٹرائل سے کوئی رقم نہیں کمائی، البتہ ٹرائل میں شامل رضاکاروں کو کمپنی کی جانب سے معمولی رقم دی گئی۔

جہاں میجر جنرل عامر اکرام نے کین سائنو ویکسین کے ٹرائل سے ایک کروڑ ڈالر کمانے کی بات کی، وہیں قومی ادارہ صحت کے عہدیداروں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب ایک سال کے اندر پاکستان مذکورہ ویکسین کو ملک کے اندر تیار کرکے اس سے بھی تین کروڑ ڈالر کی کمائی کرے گا۔

کورونا ویکسین کے ٹرائل اور تیاری سے کروڑوں ڈالرز کی حکومتی کمائی کی باتیں سامنے آنے کے بعد لوگ ویکسین سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر یقین کرنے لگے اور ویکسینیشن کا عمل سست روی کا شکار بھی ہوا۔

ویکسین ٹرائل سے پیسے کمانے کی بات کو اس قدر وزندار بنا کر پیش کیا گیا کہ پاکستانی قانون ساز بھی ان افواہوں پر یقین کرنے لگے اور مجبورا انہیں ایوان میں مذکورہ معاملے پر قومی ادارہ صحت سے جواب مانگنا پڑا۔

کورونا ویکسین کے ٹرائل سے ڈالرز کی کمائی سے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے قومی ادارہ صحت سے سوال کیا کہ بتایا جائے کہ کیا واقعی ویکسین ٹرائل سے حکومت نے پیسے کمائے؟ اور اگر کمائے ہیں تو کتنے کمائے گئے؟

رکن قومی اسمبلی کے سوال پر قومی ادارہ صحت نے ایوان کے 36 ویں اجلاس میں ستمبر 2021 کے دوران جواب جمع کرایا کہ ان باتوں میں کوئی سچائی نہیں کہ حکومت نے ویکسین ٹرائل سے پیسے کمائے۔

قومی ادارہ صحت نے جواب دیا کہ البتہ ویکسین ٹرائل سے پاکستان کو میڈیکل شعبے کی بہتری میں معاونت فراہم کی گئی، جس میں ٹرائلز طریقہ کار میں مہارت، میڈیکل ٹرائلز میں کام آنے والے آلات کی فراہمی، عملے کے تربیت و مہارت اور ویکسین ٹیکنالوجی کی فراہمی جیسی معاونتیں شامل ہیں۔

قومی ادارہ صحت نے ایوان میں ایک اور سوال کے جواب میں یہ وضاحت بھی کہ کورونا کے تمام معاملات کی حکومت خود نگرانی کر رہی ہے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ہی ہر کام پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ادارے کے مطابق ملک میں کورونا اور ویکسینیشن سے متعلق کسی بھی عالمی یا مقامی سماجی تنظیم کو کوئی ٹارگٹ یا منصوبہ فراہم نہیں کیا گیا، البتہ انہیں ویکسینیشن سے متعلق لوگوں تک معلومات پھیلانے میں معاونت فراہم کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

قومی ادارہ صحت کے اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے ویکسین ٹرائل کے دوران ڈالرز کمانے کے بیان کے بعد شروع ہونے والی چہ مگوئیوں پر ویکسینز ٹرائلز کا حصہ رہنے والی ماہرین نے بھی ٹرائلز سے پیسے کمانے کے دعووں کو مسترد کیا۔

Back to top button